أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلَد، حدثنا عثمان الشَّحّام، حدثنا مُسلم بن أبي بَكْرة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أقوامًا من أمتي أشدّةً ذَلِقةً ألسنتُهم بالقرآن، لا يجاوزُ تَراقِيَهم، يَمْرُقُون مِن الدِّين كما يَمرُق السهمُ من الرَّمِيَّة، فإذا لقيتُمُوهم فاقتُلُوهم، فإنَّ المأجورَ مَن قَتلَهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن زيد عن عثمان الشّحّام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2645 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن زيد عن عثمان الشّحّام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2645 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو قرآن پڑھنے میں بہت زبان آور اور تیز ہوں گی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پس جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو کیونکہ جو انہیں قتل کرے گا وہ اجر پانے والا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، أخبرنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو الربيع سليمان بن داود العَتَكي وأحمد بن عَبْدة الضَّبّي قالا: حدثنا حماد بن زيد، عن عثمان الشحّام، قال: أتيت مُسلمَ بن أبي بَكْرة وفَرْقَدَ السَّبَخي، فدخلْنا عليه، فقلنا: أسمعتَ أباك يذكُر في حديث الفتن؟ فقال: نعم، سمعتُ أبي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يكون في أمتي قومٌ أعداءٌ ذَلِقَةٌ ألسنتُهم بالقرآن، فإذا رأيتُمُوهم فأَنِيمُوهم، فإذا رأيتموهم فأَنِيمُوهم" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسی قوم ہو گی جو (دین کی) دشمن ہو گی اور قرآن پڑھنے میں ان کی زبانیں بڑی تیز ہوں گی، پس جب تم انہیں دیکھو تو انہیں ابدی نیند سلا دو (یعنی قتل کر دو)، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں ابدی نیند سلا دو۔“