حدیث نمبر: 2676
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُموي، حدثنا محمد بن سنان القَزّاز، حدثنا عبد الله بن خُمْران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، أخبرني أبي، عن عمر بن الحَكَم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: أتى رسولَ الله ﷺ رجلٌ وهو يَقسِمُ تمرًا يوم حُنين، فقال: يا محمد، اعدِلْ، قال: "وَيحَك ومَن يعدلُ عليك إذا لم أعدِلْ؟ " أو "عند مَن تلتمِسُ العدْلَ بعدي؟ " ثم قال: "يُوشِكُ أن يأتيَ قومٌ مثلُ هذا، يَسألُون كتابَ الله وهم أعداؤه، يقرؤون كتابَ الله، محلَّقةً رؤوسُهم، فإذا خَرجُوا فاضرِبُوا رقابَهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2644 - محمد بن سنان كذبه أبو داود وغيره
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حنین کے دن کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! عدل کیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو تیرے لیے اور کون عدل کرے گا؟“ یا فرمایا: ”میرے بعد تم کس کے پاس عدل تلاش کرو گے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب اس شخص جیسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی کتاب (کا واسطہ دے کر) سوال کریں گے حالانکہ وہ اس کے دشمن ہوں گے، وہ اللہ کی کتاب پڑھیں گے، ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے، پس جب وہ نکلیں (بغاوت کریں) تو ان کی گردنیں اڑا دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد / حدیث: 2676
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2676] [ترقيم الشركة 2659] [ترقيم العلميه 2644]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور اس کی موجودہ سند محمد بن سنان القزاز کی وجہ سے متابعات و شواہد میں "حسن" درجے کی ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "السنة" (944) عن أبي موسى محمد بن المثنى، والطبراني في "الكبير" (14249) من طريق رجاء بن محمد العُذري، كلاهما عن عبد الله بن حُمران، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "السنۃ" (944) میں محمد بن المثنیٰ سے، اور طبرانی نے "الکبیر" (14249) میں رجاء بن محمد العذری کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبداللہ بن حمران سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه بنحوه أحمد (11/ 7038) من طريق مِقْسَم أبي القاسم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وإسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (11/7038) میں مقسم ابوالقاسم کے طریق سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2676 سے ماخوذ ہے۔