المستدرك على الصحيحين
كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد— باغیوں کے ساتھ جہاد کے متعلق کتاب اور یہ جہاد کی آخری کتاب ہے
الْأَمْرُ بِقِتَالِ الْمَارِقَةِ مِنَ الدِّينِ . باب: دین سے نکل جانے والوں کے خلاف قتال کا حکم
حدیث نمبر: 2678
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، أخبرنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو الربيع سليمان بن داود العَتَكي وأحمد بن عَبْدة الضَّبّي قالا: حدثنا حماد بن زيد، عن عثمان الشحّام، قال: أتيت مُسلمَ بن أبي بَكْرة وفَرْقَدَ السَّبَخي، فدخلْنا عليه، فقلنا: أسمعتَ أباك يذكُر في حديث الفتن؟ فقال: نعم، سمعتُ أبي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يكون في أمتي قومٌ أعداءٌ ذَلِقَةٌ ألسنتُهم بالقرآن، فإذا رأيتُمُوهم فأَنِيمُوهم، فإذا رأيتموهم فأَنِيمُوهم" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسی قوم ہو گی جو (دین کی) دشمن ہو گی اور قرآن پڑھنے میں ان کی زبانیں بڑی تیز ہوں گی، پس جب تم انہیں دیکھو تو انہیں ابدی نیند سلا دو (یعنی قتل کر دو)، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں ابدی نیند سلا دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند سابقہ سند کی طرح "قوی" ہے۔
وقوله: "فأنيموهم"، أي: اقتلوهم.
نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "فأنیموهم" (انہیں سلا دو) سے مراد انہیں "قتل کر دو" ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند سابقہ سند کی طرح "قوی" ہے۔
وقوله: "فأنيموهم"، أي: اقتلوهم.
نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "فأنیموهم" (انہیں سلا دو) سے مراد انہیں "قتل کر دو" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2678 سے ماخوذ ہے۔