المستدرك على الصحيحين
كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد— باغیوں کے ساتھ جہاد کے متعلق کتاب اور یہ جہاد کی آخری کتاب ہے
الْأَمْرُ بِقِتَالِ الْمَارِقَةِ مِنَ الدِّينِ . باب: دین سے نکل جانے والوں کے خلاف قتال کا حکم
حدیث نمبر: 2677
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلَد، حدثنا عثمان الشَّحّام، حدثنا مُسلم بن أبي بَكْرة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أقوامًا من أمتي أشدّةً ذَلِقةً ألسنتُهم بالقرآن، لا يجاوزُ تَراقِيَهم، يَمْرُقُون مِن الدِّين كما يَمرُق السهمُ من الرَّمِيَّة، فإذا لقيتُمُوهم فاقتُلُوهم، فإنَّ المأجورَ مَن قَتلَهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن زيد عن عثمان الشّحّام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2645 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو قرآن پڑھنے میں بہت زبان آور اور تیز ہوں گی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پس جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو کیونکہ جو انہیں قتل کرے گا وہ اجر پانے والا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عثمان الشحَّام، وقد روي الحديث عن أبي بكرة
من وجهين آخرين أحدهما حسن كما سيأتي.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عثمان شحام کی وجہ سے "قوی" ہے، اور یہ حدیث سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے دو اور طریقوں سے بھی مروی ہے جن میں سے ایک "حسن" ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
وأخرجه أحمد (34/ 20382) عن وكيع بن الجراح، و (20446) عن روح بن عُبادة، كلاهما عن عثمان الشحّام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (34/20382) میں وکیع بن الجراح کے واسطے سے اور (20446) میں روح بن عبادہ سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عثمان الشحام سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
وسيأتي بعده من طريق حماد بن زيد عن عثمان الشحّام.
متابعات و شواہد: اس کے بعد یہ روایت حماد بن زید از عثمان الشحام کے طریق سے بھی آئے گی۔
وأخرجه بنحوه أحمد (20434) من طريق بلال بن بُقْطُر، عن أبي بكرة. وبلال مجهول.
درجۂ حدیث: بلال بن بقطر کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے کیونکہ وہ "مجہول" راوی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20434) میں بلال بن بقطر کے طریق سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
وله طريق أخرى عند ابن أبي عاصم في "السنة" (936) عن نصر بن عاصم، عن أبي بكرة. وإسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی یہ سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: ابن ابی عاصم کی "السنۃ" (936) میں اس کا ایک اور طریق نصر بن عاصم از ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
ذَلِقَة، أي: فصيحة بليغة.
نوٹ / توضیح: لفظ "ذَلِقَة" کا لغوی معنی فصیح و بلیغ اور زبان آور ہونے کے ہیں۔
والتراقي: جمع تَرْقُوة، وهي العظم الذي بين ثُغْرة النَّحر والعاتق، وهما تَرقُوَتان.
نوٹ / توضیح: "التراقی" یہ "ترقوۃ" کی جمع ہے، اس سے مراد وہ ہڈی ہے جو ہنسلی (گردن کے نچلے گڑھے) اور کندھے کے درمیان ہوتی ہے، اور یہ انسانی جسم میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔
والرَّمِيَّة: الصيد الذي ترميه فتقصده وينفُذ فيه سهمك. وقيل: هي كل دابّة مَرْميّة.
نوٹ / توضیح: "الرَّمِیَّة" سے مراد وہ شکار ہے جسے تم نشانہ بنا کر تیر مارو اور تمہارا تیر اس کے پار ہو جائے۔ بعض نے کہا اس سے مراد ہر وہ جانور ہے جسے تیر مارا گیا ہو۔
من وجهين آخرين أحدهما حسن كما سيأتي.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عثمان شحام کی وجہ سے "قوی" ہے، اور یہ حدیث سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے دو اور طریقوں سے بھی مروی ہے جن میں سے ایک "حسن" ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
وأخرجه أحمد (34/ 20382) عن وكيع بن الجراح، و (20446) عن روح بن عُبادة، كلاهما عن عثمان الشحّام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (34/20382) میں وکیع بن الجراح کے واسطے سے اور (20446) میں روح بن عبادہ سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عثمان الشحام سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
وسيأتي بعده من طريق حماد بن زيد عن عثمان الشحّام.
متابعات و شواہد: اس کے بعد یہ روایت حماد بن زید از عثمان الشحام کے طریق سے بھی آئے گی۔
وأخرجه بنحوه أحمد (20434) من طريق بلال بن بُقْطُر، عن أبي بكرة. وبلال مجهول.
درجۂ حدیث: بلال بن بقطر کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے کیونکہ وہ "مجہول" راوی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20434) میں بلال بن بقطر کے طریق سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
وله طريق أخرى عند ابن أبي عاصم في "السنة" (936) عن نصر بن عاصم، عن أبي بكرة. وإسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی یہ سند "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: ابن ابی عاصم کی "السنۃ" (936) میں اس کا ایک اور طریق نصر بن عاصم از ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
ذَلِقَة، أي: فصيحة بليغة.
نوٹ / توضیح: لفظ "ذَلِقَة" کا لغوی معنی فصیح و بلیغ اور زبان آور ہونے کے ہیں۔
والتراقي: جمع تَرْقُوة، وهي العظم الذي بين ثُغْرة النَّحر والعاتق، وهما تَرقُوَتان.
نوٹ / توضیح: "التراقی" یہ "ترقوۃ" کی جمع ہے، اس سے مراد وہ ہڈی ہے جو ہنسلی (گردن کے نچلے گڑھے) اور کندھے کے درمیان ہوتی ہے، اور یہ انسانی جسم میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔
والرَّمِيَّة: الصيد الذي ترميه فتقصده وينفُذ فيه سهمك. وقيل: هي كل دابّة مَرْميّة.
نوٹ / توضیح: "الرَّمِیَّة" سے مراد وہ شکار ہے جسے تم نشانہ بنا کر تیر مارو اور تمہارا تیر اس کے پار ہو جائے۔ بعض نے کہا اس سے مراد ہر وہ جانور ہے جسے تیر مارا گیا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2677 سے ماخوذ ہے۔