حدیث نمبر: 2637
حدَّثَناه أبو أحمد محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق العَدْل الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباطُ بن نَصْر، عن سِماك بن حرب، عن ثَعلَبة بن الحَكَم عن ابن عباس، قال: انتَهَبَ الناسُ غنَمًا يومَ خيبر (1) فذَبَحُوها فجعلوا يَطبُخون منها، فجاء رسولُ الله ﷺ، فأمر بالقُدُور فأُكفِئت، وقال: "إنه لا تَصلُحُ النُّهْبةُ" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: خیبر کے دن لوگوں نے کچھ بکریاں لوٹ لیں، پھر انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت پکانے لگے، پس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہانڈیوں کے بارے میں حکم دیا تو وہ الٹ دی گئیں، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوٹ مار (کا مال) درست نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2637
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه، لكن ذكر ابن عباس غير محفوظ فيه كما تقدم.» [ترقيم الرساله 2637] [ترقيم الشركة 2620]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا جاء في النسخ الخطية، وصحَّح عليها في (ز)، وكتب في الهامش مقابلها كلمة "حنين"، وضبَّب فوقها، وكأنه أشار إلى أنه وقع في بعض الروايات عن أسباط ذكرُ حنين، وأنه غير مستقيم.

قلنا: كذلك وقعت رواية أسباط للبخاري كما في "تاريخه الكبير" 2/ 173، وكذلك وقعت لابن أبي خيثمة في "تاريخه الكبير" (318)، وجزم البخاري بأنَّ من قال: يوم خيبر، فقوله أصح. لكن وقع في "العلل" لابن أبي حاتم (2222) في رواية أسباط ذكر خيبر لا حنين، وهذا يوافق ما وقع في النسخ الخطية عندنا، فالظاهر أنَّ ذكر حنين وقع في بعض الروايات عن أسباط دون بعضٍ، والله أعلم.

فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں اسی طرح (خیبر) آیا ہے، تاہم نسخہ (ز) میں اس کی تصحیح کی گئی ہے اور حاشیے میں اس کے سامنے لفظ "حنین" لکھ کر اس پر نشان لگایا گیا ہے، گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ "اسباط" سے مروی بعض روایات میں "حنین" کا ذکر آیا ہے جو کہ غیر مستقیم (غیر صحیح) ہے۔
اہم نکتہ: اسباط کی روایت امام بخاری کی "تاریخ کبیر" (2/ 173) اور ابن ابی خیثمہ (318) میں بھی اسی طرح واقع ہوئی ہے، اور امام بخاری نے جزم کے ساتھ فرمایا کہ جس نے "یومِ خیبر" کہا اس کا قول زیادہ صحیح ہے۔ البتہ ابن ابی حاتم کی "العلل" (2222) میں اسباط کی روایت میں "خیبر" کا ذکر ہے "حنین" کا نہیں، جو ہمارے نسخوں کے موافق ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ اسباط سے بعض راویوں نے "حنین" اور بعض نے "خیبر" روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه، لكن ذكر ابن عباس غير محفوظ فيه كما تقدم.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور پچھلی سند کی طرح یہ سند بھی "حسن" ہے، لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر "غیر محفوظ" (ثابت نہیں) ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "التاريخ الكبير" (318)، والطبراني في "الكبير" (10639) من طرق عن عمرو بن حماد بن طلحة القَنَّاد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے "تاریخ کبیر" (318) میں اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (10639) میں عمرو بن حماد بن طلحہ القناد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اس کی سابقہ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2637 سے ماخوذ ہے۔