کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے کسی ایسے معاہد کو قتل کیا جس کے ذمے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ تھی، اس نے اللہ کی ذمہ داری کو توڑ دیا
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدّثنا نصر بن علي الجَهْضَمِي، حدثنا مَعْدِي بن سليمان، حدثنا ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "ألا مَن قتل معاهَدًا له ذِمّةُ الله وذِمّةُ رسولِه، فقد خَفَرَ ذِمّةَ الله، ولا يَرَحْ (1) ريحَ الجنةِ، وإنَّ ريحها لتُوجدُ من مسيرةِ سبعين خَرِيفًا" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2581 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2581 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ایسے معاہد کو قتل کیا جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ (امن کا وعدہ) تھا، تو اس نے اللہ کے ذمہ کی عہد شکنی کی، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال (خریف) کی مسافت سے آتی ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد وبِشر بن المفضَّل، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن أبي عَمْرة، عن زيد بن خالد الجُهَني: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ تُوفي يومَ خيبر (3) فذكروا لرسول الله ﷺ، فقال: "صلُّوا على صاحبِكم"، فتغيَّر وجوهُ الناسِ لتلك، فقال: "إنَّ صاحبَكم غَلَّ في سبيل الله"، ففتَّشْنا متاعَه فوجدنا خَرَزًا من خَرَز اليهود لا يُساوي درهمين (4). حديث صحيح على شرط الشيخين، وأظنهما لم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو (یعنی میں نہیں پڑھوں گا)“، یہ سن کر لوگوں کے چہرے (خوف و حیرت سے) بدل گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ (مالِ غنیمت) میں خیانت کی تھی“، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں یہودیوں کے ہار کے موتی ملے جن کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن غالباً انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن غالباً انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، أخبرنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عبد الله بن شَوْذَب، حدثني عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان رسول الله ﷺ إذا أصاب غَنيمةً أمر بلالًا فنادى في الناس، فيَجيئون بغنائمِهم، فيُخمِّسُه ويَقسِمُه، فجاء رجلٌ بعد ذلك بزِمَام من شَعر، فقال: يا رسول الله، هذا فيما كنّا أصَبْناه من الغنيمة، قال: "أسمعتَ بلالًا نادى ثلاثًا؟ " قال: نعم، قال: "فما مَنَعَك أن تجيءَ به؟ " قال: يا رسول الله، فاعتَذَرَ، قال: "كُنْ أَنتَ تَجيءُ به يومَ القيامة، فلن أقبَلَه عنكَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2583 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2583 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب مالِ غنیمت ملتا تو آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں اعلان کرتے، لوگ اپنا اپنا غنیمت کا مال لے کر آتے، آپ ﷺ اس میں سے پانچواں حصہ (خمس) نکالتے اور باقی تقسیم فرما دیتے۔ (ایک بار) ایک شخص اس اعلان کے بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک نکیل لے کر آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمیں غنیمت میں ملی تھی (جو میں اب لایا ہوں)، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے بلال کا تین بار کیا ہوا اعلان سنا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہیں اسے لانے سے کس چیز نے روکا تھا؟“ اس نے کچھ عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تم ہی اسے قیامت کے دن لے کر آنا، میں اسے اب تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔