حدیث نمبر: 2615
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، أخبرنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عبد الله بن شَوْذَب، حدثني عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان رسول الله ﷺ إذا أصاب غَنيمةً أمر بلالًا فنادى في الناس، فيَجيئون بغنائمِهم، فيُخمِّسُه ويَقسِمُه، فجاء رجلٌ بعد ذلك بزِمَام من شَعر، فقال: يا رسول الله، هذا فيما كنّا أصَبْناه من الغنيمة، قال: "أسمعتَ بلالًا نادى ثلاثًا؟ " قال: نعم، قال: "فما مَنَعَك أن تجيءَ به؟ " قال: يا رسول الله، فاعتَذَرَ، قال: "كُنْ أَنتَ تَجيءُ به يومَ القيامة، فلن أقبَلَه عنكَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2583 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب مالِ غنیمت ملتا تو آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں اعلان کرتے، لوگ اپنا اپنا غنیمت کا مال لے کر آتے، آپ ﷺ اس میں سے پانچواں حصہ (خمس) نکالتے اور باقی تقسیم فرما دیتے۔ (ایک بار) ایک شخص اس اعلان کے بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک نکیل لے کر آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمیں غنیمت میں ملی تھی (جو میں اب لایا ہوں)، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے بلال کا تین بار کیا ہوا اعلان سنا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہیں اسے لانے سے کس چیز نے روکا تھا؟“ اس نے کچھ عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تم ہی اسے قیامت کے دن لے کر آنا، میں اسے اب تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2615
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل عامر بن عبد الواحد: وهو البصري الأحول. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، صاحب "السير".» [ترقيم الرساله 2615] [ترقيم الشركة 2598] [ترقيم العلميه 2583]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عامر بن عبد الواحد: وهو البصري الأحول. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، صاحب "السير".
درجۂ حدیث: عامر بن عبد الواحد (بصری احول) کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو اسحاق الفزاری سے مراد "ابراہیم بن محمد بن حارث" ہیں، جو مشہور کتاب "السیر" کے مصنف ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2712) عن أبي صالح محبوب بن موسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2712) پر ابو صالح محبوب بن موسیٰ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (4809) و (4858) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن سهم، عن أبي إسحاق الفزاري، به.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے (4809، 4858) پر محمد بن عبد الرحمن بن سہم کے واسطے سے ابو اسحاق الفزاری سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (11/ 6996) من طريق عبد الله بن المبارك، عن عبد الله بن شوذب، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے (11/ 6996) پر عبد اللہ بن مبارک عن عبد اللہ بن شوذب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2650) من طريق أيوب بن سويد عن عبد الله بن شوذب.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (2650) پر ایوب بن سوید عن عبد اللہ بن شوذب کے طریق سے آئے گی۔
والزِّمَام: خِطام الدابّة.
نوٹ / توضیح: "زمام" سے مراد جانور (اونٹ وغیرہ) کی نکیل یا لگام ہے۔
وقال الطيبي في "شرح المشكاة" 9/ 2771: هذا واردٌ على سبيل التغليظ، لا أنَّ توبته غير مقبولة، ولا أنَّ المظالم على أصحابها أو الاستحلال منهم غير ممكن.
مجموعی اصول / قاعدہ: علامہ طیبی (شرح مشکاۃ: 9/ 2771) فرماتے ہیں کہ یہ (وعید) سختی اور ڈرانے کے طور پر ہے؛ اس کا یہ مطلب نہیں کہ توبہ قبول نہیں ہوگی یا مظالم کی تلافی اور معافی ممکن نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2615 سے ماخوذ ہے۔