حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا عبد الله بن روح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المُستَلِم بن سعيد الثقفي، عن خُبيب بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن جده، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في بعض غَزَواته، فأتيتُه أنا ورجلٌ قبل أن نُسلِمَ، فقلنا: إنا نستحيي أن يشهد قومُنا مشهدًا ولا نشهدُ، فقال: "أسْلِما" قلنا: لا، قال: "فإنا لا نستعينُ بالمشركين على المشركين"، فأسلمْنا، وشهِدنا مع رسول الله ﷺ، فقتلتُ رجلًا وضربَني الرجلُ ضربةً، فتزوجتُ ابنتَه، فكانت تقول: لا عَدِمْتُ رجلًا وَشَّحَك هذا الوِشاحَ، فقلت: لا عَدِمْتِ رجلًا عجَّل أباكِ إلى النار (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
حافظ طلحہ بابر
خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد اور وہ اپنے دادا (خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوے کے لیے نکلے، میں اور ایک دوسرا شخص اسلام لانے سے پہلے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو کسی معرکے میں شریک ہو اور ہم پیچھے رہ جائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام لے آؤ“، ہم نے (اس وقت) انکار کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے“، پھر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوے میں شریک ہوئے، وہاں میں نے ایک شخص کو قتل کیا اور اس نے مجھے ایک زخم لگایا، بعد میں (اتفاق سے) میں نے اسی کی بیٹی سے نکاح کر لیا، وہ اکثر کہا کرتی تھی: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہیں یہ زخم (بطور اعزاز) پہنایا ہو، تو میں کہتا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہارے باپ کو تیزی سے جہنم پہنچایا ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يوسف بن عيسى المروزي، حدثنا الفضل بن موسى السِّيْناني، عن محمد بن عمرو عن سعد (3) بن المنذر عن أبي حُميد الساعِدي، قال: خرج رسول الله ﷺ حتى إذا خَلَّف ثَنيّةَ الوَداع إذا كتيبةٌ، قال: "مَن هؤلاء؟ " قالوا: بني (4) قَينُقاع، وهو رَهْط عبد الله بن سَلَام، قال: "وأسلَمُوا؟ " قالوا: لا، بل هم على دينهم، قال: "قُل لهم فليَرجِعُوا، فإِنَّا لا نَستعينُ بالمشركين" (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (غزوے کے لیے) نکلے، جب آپ ﷺ نے ثنیۃ الوداع کو پیچھے چھوڑا تو وہاں ایک دستہ نظر آیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ صحابہ نے کہا: یہ بنو قینقاع (یہودی) ہیں جو عبداللہ بن سلام کے قبیلے سے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ اسلام لے آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اپنے دین پر قائم ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“