کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مردوں کی اقسام اور اعمال کی قسموں کا بیان۔
حدثني بصحَّة ما ذكرتُه أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثني معاوية بن عمرو، حدثنا مَسلَمة بن جعفر، من بَجِيلة، عن الرُّكين بن الربيع، قال: حدثني عمِّي، عن أبي يحيى خُرَيم بن فاتِك، عن رسول الله ﷺ، قال: "الناسُ أربعةٌ، والأعمالُ سِتةٌ: فمُوجِبانِ، ومِثلٌ بمِثلٍ، وعشرةُ أضعافٍ، وسبعُ مئة ضِعْفٍ، فمن ماتَ كافرًا وَجَبَتْ له النارُ، ومن مات مؤمنًا وَجَبَتْ له الجنةُ، والعبدُ يعملُ بالسيئةِ فلا يُجزَى إلّا بمثلِها، والعبدُ يهُمُّ بالحسنة فتُكتَبُ له عَشْرًا، والعبدُ يُنفِقُ النفقةَ في سبيلِ الله فتُضاعَفُ له سبعَ مئةِ ضعفٍ. والناسُ أربعةٌ: فمُوسَّعٌ عليه في الدنيا، ومُوسَّعٌ عليه في الآخِرة، ومُوسَّع عليه في الدنيا مُقَتَّرٌ عليه في الآخِرة، ومُقَتَّرٌ عليه في الدنيا مُوسَّعٌ عليه في الآخِرة، وشَقِيٌّ في الدنيا والآخِرة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار طرح کے ہیں اور اعمال چھ قسم کے ہیں: دو عمل واجب کرنے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے برابر ہے، ایک کا دس گنا ہے اور ایک کا سات سو گنا ہے۔ پس جو کفر کی حالت میں مرا اس کے لیے آگ واجب ہو گئی، اور جو ایمان کی حالت میں مرا اس کے لیے جنت واجب ہو گیا۔ اور جب بندہ کوئی برائی کرتا ہے تو اسے صرف اسی کے برابر بدلہ دیا جاتا ہے، اور جب بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور جب بندہ اللہ کی راہ میں کوئی خرچ کرتا ہے تو اسے سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور لوگ چار طرح کے ہیں: ایک وہ جس پر دنیا میں بھی وسعت دی گئی اور آخرت میں بھی، ایک وہ جس پر دنیا میں وسعت دی گئی لیکن آخرت میں تنگی ہے، ایک وہ جس پر دنیا میں تنگی کی گئی لیکن آخرت میں وسعت ہے، اور ایک وہ جو دنیا اور آخرت (دونوں) میں بدبخت ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2473
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف، مسلمة بن جعفر البَجَلي ضعَّفه الأزدي، وأسقَطَ من إسناد الحديثِ ذكرَ الربيع بن عُميلة بين الرُّكَين وعمه يُسَير بن عُميلة، والصحيح ذكره كما نبَّه عليه البخاري في "تاريخه الكبير" 8/ 423، يعني كما وقع في رواية زائدة بن قدامة وشيبان النحوي وسفيان الثَّوري، كلهم عن ...» [ترقيم الرساله 2473] [ترقيم الشركة 2456]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبَّان بن فائدٍ، عن سَهْل بن مُعاذ الجُهَني، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن قرأ ألفَ آيةٍ في سبيلِ الله، كَتَبَه اللهُ مع النبيِّين والصِّدِّيقين والشُّهداءِ والصالحين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2443 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیات تلاوت کیں، اللہ تعالیٰ اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ لکھ دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2474
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف زبَّان بن فائد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف زبَّان بن فائد، وقد توبع بمتابعة لا يُعتدُّ بها كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2474] [ترقيم الشركة 2457] [ترقيم العلميه 2443]