حدیث نمبر: 2473
حدثني بصحَّة ما ذكرتُه أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثني معاوية بن عمرو، حدثنا مَسلَمة بن جعفر، من بَجِيلة، عن الرُّكين بن الربيع، قال: حدثني عمِّي، عن أبي يحيى خُرَيم بن فاتِك، عن رسول الله ﷺ، قال: "الناسُ أربعةٌ، والأعمالُ سِتةٌ: فمُوجِبانِ، ومِثلٌ بمِثلٍ، وعشرةُ أضعافٍ، وسبعُ مئة ضِعْفٍ، فمن ماتَ كافرًا وَجَبَتْ له النارُ، ومن مات مؤمنًا وَجَبَتْ له الجنةُ، والعبدُ يعملُ بالسيئةِ فلا يُجزَى إلّا بمثلِها، والعبدُ يهُمُّ بالحسنة فتُكتَبُ له عَشْرًا، والعبدُ يُنفِقُ النفقةَ في سبيلِ الله فتُضاعَفُ له سبعَ مئةِ ضعفٍ. والناسُ أربعةٌ: فمُوسَّعٌ عليه في الدنيا، ومُوسَّعٌ عليه في الآخِرة، ومُوسَّع عليه في الدنيا مُقَتَّرٌ عليه في الآخِرة، ومُقَتَّرٌ عليه في الدنيا مُوسَّعٌ عليه في الآخِرة، وشَقِيٌّ في الدنيا والآخِرة" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ چار طرح کے ہیں اور اعمال چھ قسم کے ہیں: دو عمل واجب کرنے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے برابر ہے، ایک کا دس گنا ہے اور ایک کا سات سو گنا ہے۔ پس جو کفر کی حالت میں مرا اس کے لیے آگ واجب ہو گئی، اور جو ایمان کی حالت میں مرا اس کے لیے جنت واجب ہو گیا۔ اور جب بندہ کوئی برائی کرتا ہے تو اسے صرف اسی کے برابر بدلہ دیا جاتا ہے، اور جب بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور جب بندہ اللہ کی راہ میں کوئی خرچ کرتا ہے تو اسے سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور لوگ چار طرح کے ہیں: ایک وہ جس پر دنیا میں بھی وسعت دی گئی اور آخرت میں بھی، ایک وہ جس پر دنیا میں وسعت دی گئی لیکن آخرت میں تنگی ہے، ایک وہ جس پر دنیا میں تنگی کی گئی لیکن آخرت میں وسعت ہے، اور ایک وہ جو دنیا اور آخرت (دونوں) میں بدبخت ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2473
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف، مسلمة بن جعفر البَجَلي ضعَّفه الأزدي، وأسقَطَ من إسناد الحديثِ ذكرَ الربيع بن عُميلة بين الرُّكَين وعمه يُسَير بن عُميلة، والصحيح ذكره كما نبَّه عليه البخاري في "تاريخه الكبير" 8/ 423، يعني كما وقع في رواية زائدة بن قدامة وشيبان النحوي وسفيان الثَّوري، كلهم عن ...» [ترقيم الرساله 2473] [ترقيم الشركة 2456]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف، مسلمة بن جعفر البَجَلي ضعَّفه الأزدي، وأسقَطَ من إسناد الحديثِ ذكرَ الربيع بن عُميلة بين الرُّكَين وعمه يُسَير بن عُميلة، والصحيح ذكره كما نبَّه عليه البخاري في "تاريخه الكبير" 8/ 423، يعني كما وقع في رواية زائدة بن قدامة وشيبان النحوي وسفيان الثَّوري، كلهم عن الرُّكين.
درجۂ حدیث: حدیث کا متن "قوی" ہے مگر یہ خاص سند مسلمہ بن جعفر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ: مسلمہ نے سند سے "الربیع بن عمیلہ" کا نام گرا دیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ الرکین اپنے والد ربیع سے اور وہ اپنے چچا یسیر سے روایت کرتے ہیں، جیسا کہ امام بخاری نے صراحت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (19035)، وابن حبان (6171) من طريق شيبان بن عبد الرحمن النحوي، عن الرُّكين بن الربيع بن عُميلة، عن أبيه، عن يُسَير بن عُميلة، عن خُريم. فزاد في إسناده الربيع بن عُميلة.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابن حبان نے شیبان النحوی کے طریق سے اسے مکمل سند (بشمول ربیع بن عمیلہ) کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (18900) عن يزيد بن هارون، و (19039) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، كلاهما عن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة - عن الرُّكين، عن أبيه - وقال أبو النضر: عن رجل، بدل: عن أبيه - عن خُريم. فأسقط المسعودي من إسناده هذا رجلًا، ويزيد بن

هارون وأبو النضر سمعا من المسعودي بعد اختلاطه، فالصحيح رواية شيبان بن عبد الرحمن النحوي ومن تابعه.

فنی نکتہ: مسعودی کی روایت میں انقطاع ہے اور چونکہ یزید بن ہارون اور ابوالنضر نے مسعودی کے "اختلاط" (حافظہ بگڑنے) کے بعد ان سے سنا، اس لیے شیبان النحوی کی روایت ہی صحیح اور قابلِ قبول ہے۔
وقد تقدَّم قبله مختصرًا بذكر النفقة في سبيل الله، من طريق زائدة بن قدامة عن الرُّكين.
متابعات و شواہد: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مختصر ذکر پیچھے الرکین عن زائدہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2473 سے ماخوذ ہے۔