کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبَهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ
أخبرنا أبو أحمد بَكْر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا حَيْوة بن شُريح الحَضْرمي، حدثنا بَقيّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سعْد، عن خالد بن مَعْدانَ، عن أبي بَحْريّةَ، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "الغَزْوُ غَزْوان: فأما مَن ابتغَى وجهَ الله، وأطاعَ الإمامَ، وأنفقَ الكَريمةَ، وياسَرَ الشَّريكَ، واجتَنَبَ الفَسادَ، فإنَّ نَومَه ونُبْهَه أجرٌ كُلُّه، وأما مَن غزا فَخْرًا ورِياءً وسُمْعةً، وعَصَى الإمام، وأفْسَدَ في الأرض، فإنه لن يَرجِعَ بكَفَافٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2435 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2435 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غزوہ (جہاد) دو طرح کے ہیں: جس نے اللہ کی رضا چاہی، امام کی اطاعت کی، اپنا عمدہ مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی برتی اور فساد سے بچا، تو اس کا سونا اور جاگنا سب اجر و ثواب ہے، لیکن جس نے فخر، دکھاوے اور شہرت کے لیے غزوہ کیا، امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا، تو وہ برابر سرابر (اجر و گناہ میں) بھی واپس نہیں لوٹے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّياري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال، حدثنا علي بن الحَسَن بن شَقيق، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا ابن أبي ذئب، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن أيوب بن مِكْرَز، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، رجلٌ يُريدُ الجِهادَ في سبيل الله، وهو يبتغي عَرَضًا من عَرَض الدنيا، فقال رسول الله ﷺ: "لا أَجْرَ له"، فسأله الثانيةَ والثالثةَ، فقال رسول الله ﷺ: "لا أَجْرَ له" (2).
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2436 - صحيح
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2436 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ دنیاوی مال و متاع کی طلب بھی رکھتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے“، اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ بھی یہی سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے (ہر بار) یہی فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔