کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وہ آنکھ جس سے اللہ کے خوف سے آنسو بہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے، دونوں پر آگ حرام ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن محمد بن سُمَير (1)، عن أبي علي الجَنْبي، عن أبي رَيحانة، قال: خَرجْنا مع رسولِ الله ﷺ في غزوةٍ، فأَوفَينا على شَرَفٍ، فأصابنا بَرْدٌ شديدٌ، حتى إن كان أحدُنا يَحفِرُ الحَفِير، ثم يدخُل فيه ويُغطِّي عليه بحَجَفَتِه، فلما رأى رسولُ الله ﷺ ذلك من الناسِ، قال: "ألا رجلٌ يحرُسُنا الليلةَ أدعُو اللهَ له بدُعاءٍ يُصيبُ به فَضْلًا"، فقام رجلٌ من الأنصار، فقال: أنا يا رسول الله، فدعا له، قال أبو رَيحانة: فقلت: أنا، فدَعا لي بدُعاءٍ هو دُون ما دَعا به للأنصاريّ، ثم قال رسول الله ﷺ: "حُرِّمَت النارُ على عَينٍ دَمَعَتْ مِن خَشيةِ الله، حُرِّمت النارُ على عين سَهِرتْ في سبيلِ الله"، قال: ونَسيتُ الثالثةَ. قال أبو شُريح - وهو عبد الرحمن بن شُريح -: وسمعت بعدُ أنه قال: "حُرِّمَتِ النارُ على عَينٍ غَضَّتْ عن محارِمِ الله" أو "عينٍ فُقِئت في سبيلِ الله" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2432 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے اور ایک بلند مقام پر پہنچے، وہاں ہمیں اتنی شدید سردی نے آ لیا کہ ہم میں سے کوئی شخص گڑھا کھودتا اور اس میں داخل ہو کر اپنی ڈھال اپنے اوپر ڈھانپ لیتا، جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی یہ تکلیف دہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو آج رات ہمارا پہرہ دے؟ میں اس کے لیے اللہ سے ایسی دعا کروں گا جس کے ذریعے وہ فضیلت پا لے گا“، تب انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں (حاضر ہوں)، تو آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ ابوریحانہ کہتے ہیں: پھر میں نے عرض کی: میں بھی (تیار ہوں)، تو آپ ﷺ نے میرے لیے بھی دعا فرمائی جو انصاری کے لیے کی گئی دعا سے (مرتبے میں) کچھ کم تھی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس آنکھ پر آگ حرام کر دی گئی ہے جو اللہ کے خوف سے اشکبار ہوئی، اس آنکھ پر آگ حرام کر دی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہی“، راوی کہتے ہیں کہ میں تیسری بات بھول گیا، عبدالرحمن بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے بعد میں سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اس آنکھ پر آگ حرام کر دی گئی ہے جس نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے نظریں جھکا لیں“ یا فرمایا: ”وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پھوٹ گئی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2463
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن سُمير - ويقال: شمير
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة محمد بن سُمير - ويقال: شمير، ويقال: شمر - فلم يرو عنه غير عبد الرحمن بن شريح، وقد قال ابن حبان: روى عنه المصريون. كذا قال! مع أننا لم نقف على رواية غير عبد الرحمن بن شُريح عنه، ولم يذكر أحدٌ ممن ترجم له راويًا غير ابن ...» [ترقيم الرساله 2463] [ترقيم الشركة 2446] [ترقيم العلميه 2432]
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحَلَبي، حدثنا معاوية بن سلّام، أخبرني زيد بن سلّام، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، أنه سمع سَهلَ ابن الحَنْظَلية يَذكُر: أنهم سارُوا مع رسول الله ﷺ يومَ حُنينٍ، فأطنَبُوا السَّيرَ حتى كان عشيّةً، فحضرتُ الصلاةَ عند رسول الله ﷺ، فجاء رجلٌ فارسٌ، فقال: يا رسول الله، إني انطلقتُ بين أيديكم حتى طَلَعتُ جَبَل كذا وكذا، فإذا أنا بهوازِنَ على بَكْرةِ أبيهم بظُعُنِهم ونَعَمِهم وشائِهم، فاجتمعوا إلى حُنينٍ، فتبسَّم رسولُ الله ﷺ فقال: "تلكَ غَنيمةُ المسلمين غدًا إن شاء الله"، ثم قال: "من يَحرُسُنا الليلةَ؟ " فقال أنس بن أبي مَرثَد الغَنَوي: أنا يا رسول الله، فقال: "اركَبْ"، فركِبَ فرسًا له، فجاء إلى رسولِ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ: "استقبِلْ هذا الشعْبَ حتى تكونَ في أعلاهُ، ولا نُغرَّنَّ من قِبَلِك الليلةَ". فلما أصبحنا خرجَ رسولُ الله ﷺ إلى مُصلّاهُ، فركع ركعتَين، ثم قال: "هل حَسَسْتُم فارِسَكم؟ " فقال رجلٌ: ما حَسَسْنا، فثُوِّبَ بالصلاةِ، فجعلَ رسولُ الله ﷺ يَلتَفِتُ إلى الشِّعبِ حتى قَضَى صلاتَه، فقال: "أبشِروا، فقد جاءَ فارِسُكُم"، قال: فجعلنا ننظُر إلى ظِلِّ الشجرِ في الشِّعْبِ، فإذا هو قد جاءَ حتى وَقَفَ على رسولِ الله ﷺ، فسَلَّم، فقال: إني انطلقتُ حتى كنتُ في أعلى هذا الشِّعْبِ، حيث أمرني رسولُ الله، فلما أصبحتُ اطَّلَعتُ على الشِّعْبَين، فنَظَرتُ فلم أرَ أحدًا، فقال له رسولُ الله ﷺ: "نزلتَ الليلةَ؟ " فقال: لا، إلّا مُصلِّيًا أو قاضيَ حاجةٍ، فقال له رسول الله ﷺ: "قد أَوجَبْتَ، فلا عليكَ أن لا تَعمَلَ بعدَها" (1). هذا الإسنادُ من أوّلِه إلى آخرِه صحيحٌ على شرط الشيخَين، غير أنهما لم يُخرجا مَسانيدَ سهل ابن الحَنْظَليّة، لقِلّة رواية التابعين عنه (1)، وهو من كِبار الصحابة على ما قَدّمتُ القول في أوانه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2433 - على شرط البخاري ومسلم لكن لم يخرجا لسهل وهو صحابي كبير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے، انہوں نے مسلسل سفر جاری رکھا یہاں تک کہ شام ہو گئی، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں نماز کے وقت حاضر تھا کہ ایک شہسوار آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے آگے (بطورِ جاسوس) روانہ ہوا یہاں تک کہ میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا، وہاں میں نے دیکھا کہ قبیلہ ہوازن اپنے تمام افراد، اپنی عورتوں، اپنے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ حنین کے مقام پر جمع ہو چکے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”ان شاء اللہ کل یہ سب مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت ہوگا“، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟“ تو سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس گھاٹی کے سامنے جاؤ یہاں تک کہ تم اس کی بلندی پر پہنچ جاؤ، اور آج رات تمہاری طرف سے (غفلت کی وجہ سے) ہمیں کوئی دھوکہ نہ ہو جائے“۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اپنی جائے نماز کی طرف تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر پوچھا: ”کیا تم نے اپنے شہسوار کو محسوس کیا (یعنی وہ نظر آیا)؟“ ایک شخص نے عرض کی: ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز کے دوران بھی اس گھاٹی کی طرف التفات فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل فرمائی، پھر فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، تمہارا شہسوار آ گیا ہے“، راوی کہتے ہیں کہ ہم گھاٹی میں درختوں کے سایوں کی طرف دیکھنے لگے تو اچانک وہ آ گئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر رک گئے اور سلام عرض کیا، پھر بتایا کہ میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں اس گھاٹی کی بلندی پر پہنچ گیا جہاں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں نے دونوں گھاٹیوں کا جائزہ لیا لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم آج رات (گھوڑے سے) نیچے اترے تھے؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں، سوائے نماز پڑھنے یا حاجت پوری کرنے کے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی، اب اس کے بعد اگر تم (مزید نفلی) عمل نہ بھی کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں“۔
اس حدیث کی سند اول سے آخر تک شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے سیدنا سہل ابن حنظلیہ کی مسانید اس لیے روایت نہیں کیں کیونکہ تابعین نے ان سے روایت کم کی ہے، حالانکہ وہ کبار صحابہ میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسنادٌ رجاله ثقات، لكنه سقط منه في رواية الحاكم ذكر أبي سلَّام - واسمه ممطُور الحَبشي - بين زيد بن سلّام وأبي كبشة السَّلُولي، وإنما جزمْنا بسقوطه في رواية الحاكم لأنَّ البيهقي رواه عنه في "سننه الكبرى" 9/ 149، فلم يذكره أيضًا، والصحيح إثباته في الرواية، لأنَّ ...» [ترقيم الرساله 2464] [ترقيم الشركة 2447] [ترقيم العلميه 2433]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُريح، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أسلمَ أبي عِمْران، قال: غَزَونا من المدينة نريد القُسطَنْطِينيّة، وعلى الجماعة عبدُ الرحمن بن خالد بن الوليد، والرومُ مُلْصِقُو ظُهورِهم بحائطِ المدينة، فحَمَل رجلٌ على العدوِّ، فقال الناسُ: مَهْ مَهْ، لا إله إلّا الله، يُلقي بيدَيهِ إلى التَّهْلُكَة، فقال أبو أيوب: إنما أُنزلت هذه الآيةُ فينا معشرَ الأنصارِ، لمّا نَصَرَ اللهُ نبيَّه وأظهرَ الإسلامَ، قلنا: هَلُمَّ نُقيمُ في أموالنا ونُصلِحُها، فأنزل الله ﷿: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195]، فالإلقاء بأَيدِينا إلى التَّهْلُكَةِ أن نُقيمَ في أموالِنا ونُصلِحَها، ونَدَعَ الجهاد. قال أبو عِمْران: فلم يَزَلْ أبو أيوبَ يجاهدُ في سبيلِ الله حتى دُفِنَ بالقُسطَنْطِينيّة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2434 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
اسلم ابوعمران سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ سے قسطنطنیہ کی طرف غزوے کے لیے نکلے، لشکر کے امیر سیدنا عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رومیوں نے اپنی پیٹھیں شہر کی دیوار سے لگائی ہوئی تھیں، اچانک ایک شخص نے اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر حملہ کر دیا، تو لوگ پکار اٹھے: ٹھہرو ٹھہرو! لا الہ الا اللہ، یہ شخص تو اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال رہا ہے، تب سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور اسلام کو غالب کر دیا تو ہم نے (اپنے دل میں) کہا: آؤ اب ہم اپنے مال و متاع میں قیام کریں اور ان کی اصلاح کریں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ [سورة البقرة: 195]، پس اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنا دراصل یہ ہے کہ ہم اپنے مال و اسباب کی اصلاح میں مگن ہو کر بیٹھ جائیں اور جہاد کو چھوڑ دیں، ابوعمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ آپ قسطنطنیہ میں ہی دفن ہوئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2465
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وأسلم أبو عمران: هو ابن يزيد التجيبي.» [ترقيم الرساله 2465] [ترقيم الشركة 2448] [ترقيم العلميه 2434]