حدیث نمبر: 2466
أخبرنا أبو أحمد بَكْر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا حَيْوة بن شُريح الحَضْرمي، حدثنا بَقيّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سعْد، عن خالد بن مَعْدانَ، عن أبي بَحْريّةَ، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "الغَزْوُ غَزْوان: فأما مَن ابتغَى وجهَ الله، وأطاعَ الإمامَ، وأنفقَ الكَريمةَ، وياسَرَ الشَّريكَ، واجتَنَبَ الفَسادَ، فإنَّ نَومَه ونُبْهَه أجرٌ كُلُّه، وأما مَن غزا فَخْرًا ورِياءً وسُمْعةً، وعَصَى الإمام، وأفْسَدَ في الأرض، فإنه لن يَرجِعَ بكَفَافٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2435 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غزوہ (جہاد) دو طرح کے ہیں: جس نے اللہ کی رضا چاہی، امام کی اطاعت کی، اپنا عمدہ مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی برتی اور فساد سے بچا، تو اس کا سونا اور جاگنا سب اجر و ثواب ہے، لیکن جس نے فخر، دکھاوے اور شہرت کے لیے غزوہ کیا، امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا، تو وہ برابر سرابر (اجر و گناہ میں) بھی واپس نہیں لوٹے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2466
درجۂ حدیث محدثین: حسن موقوفًا
تخریج حدیث «حسن موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقيّة بن الوليد، ثم إنه يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بسماعه في سائر طبقات الإسناد. أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس. وحيوة بن شريح الحضرمي غير حيوة بن شريح في إسناد حديث أبي أيوب الذي قبله، لأنَّ هذا الحضرمي حمصيٌّ، وذاك التجيبي هو مصري.» [ترقيم الرساله 2466] [ترقيم الشركة 2449] [ترقيم العلميه 2435]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقيّة بن الوليد، ثم إنه يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بسماعه في سائر طبقات الإسناد. أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس. وحيوة بن شريح الحضرمي غير حيوة بن شريح في إسناد حديث أبي أيوب الذي قبله، لأنَّ هذا الحضرمي حمصيٌّ، وذاك التجيبي هو مصري.
درجۂ حدیث: یہ "موقوفاً" حسن ہے مگر "مرفوعاً" اس کی سند بقیہ بن ولید کے ضعف اور ان کی "تدلیسِ تسویہ" کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ: یہاں حیوہ بن شریح "الحضرمی" (حمصی) ہیں، جبکہ پچھلی روایت والے "التجیبی" (مصری) تھے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22042)، وأبو داود (2515) عن حيوة بن شريح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (2515) نے حیوہ بن شریح کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22042) عن يزيد بن عبد ربّه، والنسائي (4382) و (7770) و (8677) عن عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، كلاهما عن بقيّة، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے بقیہ بن ولید کے مختلف طرق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور (2323) من طريق جنادة بن أبي أمية، عن معاذ، موقوفًا، وإسناده حسن.
درجۂ حدیث: سعید بن منصور کی جنادہ عن معاذؓ والی موقوف روایت کی سند حسن ہے۔
وأخرجه مالك في "موطئه" 2/ 466 - 467 عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن معاذ بن جبل موقوفًا كذلك، وهو منقطع، فإنَّ يحيى بن سعيد لم يدرك معاذًا.
فنی نکتہ: امام مالک نے اسے موطا میں یحییٰ بن سعید عن معاذؓ موقوفاً روایت کیا ہے، مگر یہ "منقطع" ہے کیونکہ یحییٰ بن سعید کا حضرت معاذؓ سے سماع نہیں۔
قوله: "أنفق الكريمة"، هي واحدة الكرائم، وهي النفائس التي تتعلق بها نفس مالكها.
نوٹ / توضیح: "کریمہ" (جمع: کرائم) سے مراد وہ قیمتی چیزیں ہیں جو مالک کو بہت عزیز ہوں۔
وقوله: "ياسَرَ الشريك" معناه الأخذ باليسير في الأمر، والسهولة فيه مع الشريك والصاحب، والمعاونة لهما.
نوٹ / توضیح: "یاسر الشریک" کا مطلب ہے اپنے ساتھی یا شریک کے ساتھ معاملات میں نرمی اور آسانی پیدا کرنا اور اس کی مدد کرنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2466 سے ماخوذ ہے۔