کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: فاضل پانی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے چارہ روکا جائے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرِّجَال، قال: سمعتُ أبي يحدّث عن أمّه عَمْرة، عن عائشة، عن النبي ﷺ: "لا يُمْنَعُ نَقْعُ (4) البئر"؛ وهو الرَّهْو (1). قال عبد الرحمن: سمعتُ أبي يقول: إنَّ الرَّهْو أن تكون البئر بين شركاءَ فيها الماءُ، فيكون للرجل فيها فضلٌ، فلا يَمنعُ صاحبَه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. إنما اتفقا من هذا الباب على حديث الزُّهْري، عن سعيد وأبي سلمة، عن أبي هريرة: "لا يُمنَعُ فضلُ الماء ليُمنَعَ به الكلأُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2361 - صحيح_x000D_ إِنَّمَا اتَّفَقَا مِنْ هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «لَا يُمْنَعْ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ»
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کنویں کے زائد پانی (کے استعمال) سے منع نہ کیا جائے۔“ اور وہ «الرَّهْو» ہے۔ عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ «الرَّهْو» سے مراد یہ ہے کہ کنواں شرکاء کے درمیان ہو جس میں پانی ہو، تو کسی شخص کے پاس اس میں سے کچھ زائد پانی ہو، تو وہ اسے اپنے شریک سے نہ روکے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے اس باب میں امام زہری کی سعید اور ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت کی ہے اس پر اتفاق کیا ہے کہ: ”پانی کے اضافے کو اس لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے گھاس (کے استعمال) کو روکا جائے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2392
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الرحمن بن أبي الرِّجَال - وأبو الرجال اسمه محمد بن عبد الرحمن بن عبد الله الأنصاري - فهو قوي الحديث لا بأس به، وقد تابعه غير واحد كما سيأتي بيانه. ورواه سفيان الثَّوري ومالك عن أبي الرِّجال، واختُلف عليهما في وصله وإرساله، ...» [ترقيم الرساله 2392] [ترقيم الشركة 2374] [ترقيم العلميه 2361]
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن عَبْدك القَزّاز الرازي ببغداد: قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد [حدثنا أحمد بن صالح المصري] (1) حدثنا إسحاق بن عيسى، حدثنا مالك بن أنس، عن أبي الرِّجَال، عن عَمْرة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قضى في سَيْلِ مَهْزُورٍ ومِذنَب أَنَّ الأعلى يُرْسِلُ إلى الأسفل ويَحبِسُ قدرَ كَعبَينِ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2362 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مھزور اور مِذنب (نامی ندیوں) کے سیلابی پانی کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اوپر والا (زمیندار) نیچے والے کی طرف پانی چھوڑ دے اور وہ (پانی کو اپنے پاس) ٹخنوں کی حد تک روک سکتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2393
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2393] [ترقيم الشركة 2375] [ترقيم العلميه 2362]