کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مکہ پڑاؤ کی جگہ ہے، نہ اس کے مکانات بیچے جائیں گے اور نہ کرائے پر دیے جائیں گے۔
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا جعفر بن أحمد الشاماتي، حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الله بن نُمَير، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن مُهاجر، عن أبيه، عن عبد الله بن باباهُ، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: "مكّةُ مُناخٌ، لا تُباعُ رِباعُها، ولا تُؤَاجَرُ بيوتُها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهِدُه حديثُ أبي حنيفة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2326 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ سب کے اترنے کی جگہ ہے، اس کی زمینیں فروخت نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی اس کے گھروں کا کرایہ لیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد وہ حدیث ہے جسے امام ابوحنیفہ نے روایت کیا:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2357
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر وأبوه ضعيف أيضًا لكنه أحسن حالًا من ابنه. وقد خالف إسماعيلَ في إسناده شريكُ بنُ عبد الله النخعي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر وأبوه ضعيف أيضًا لكنه أحسن حالًا من ابنه. وقد خالف إسماعيلَ في إسناده شريكُ بنُ عبد الله النخعي، وهو حسن الحديث إن شاء الله، فرواه عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد مرسلًا، وهذا أصح، فقد رواه كذلك الأعمش عن مجاهد كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2357] [ترقيم الشركة 2339] [ترقيم العلميه 2326]
حدَّثناه علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ وأبو جعفر بن عُبيد الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا القاسم بن الحكَم العُرَني، حدثنا أبو حَنيفة، عن عُبيد الله بن أبي زياد، عن أبي (1) نَجِيح، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال النبي ﷺ: "مكةُ حَرامٌ، وحَرامٌ بَيعُ رِباعِها، وحَرامٌ أجرُ بيوتها" (2). قد صحّتِ الرواياتُ أنَّ رسول الله ﷺ دخل مكة صلحًا. فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2327 - عبيد الله بن أبي زياد لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مکہ حرم ہے، اس کی زمینوں کا بیچنا حرام ہے اور اس کے گھروں کا کرایہ (لینا) بھی حرام ہے۔“ یہ بات صحیح روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں صلح کے ساتھ داخل ہوئے تھے، ان میں سے کچھ روایات یہ ہیں:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عُبيد الله بن أبي زياد - وهو المكي القداح - مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، وقد اختُلف عليه في رفعه ووقفه، وفي لفظه أيضًا، فرواه عنه الإمام أبو حنيفة مرفوعًا بهذا اللفظ المذكور عند المصنف، موافقًا في ذلك مرسل مجاهد بن جبر المكي الذي قدمنا ذِكرَه عند الطريق التي قبله.» [ترقيم الرساله 2358] [ترقيم الشركة 2340] [ترقيم العلميه 2327]
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن الفضل عارِمٌ وهُدْبة بن خالد، قالا: حدثنا سلّام بن مِسكين، عن ثابت، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ حين سارَ إلى مكةَ لِيفتَحَها قال لأبي هُريرة: "اهتِفْ بالأنصار"، فقال: يا معشرَ الأنصار، أجِيبُوا رسولَ الله ﷺ، فجاؤوا كأنما كانوا على مِيعادٍ، ثم قال: "اسلُكوا هذا الطريقَ، ولا يُشْرِفَنَّ لكم أحدٌ إِلَّا أَنَمْتُمُوه"، فسارَ رسولُ الله ﷺ، ففتَحَها اللهُ عليه، فطاف رسول الله ﷺ بالبيتِ، فصلى ركعتين، ثم خرج من الباب الذي يلي الصفا، فصَعِد الصفا، فخَطَب الناسَ، والأنصارُ أسفلَ منه، فقالتِ الأنصارُ بعضُهم لبعضٍ: أمّا الرجلُ فأخذَتْه الرأفةُ بقومه، والرغبةُ في قريته، وأنزل الله الوحيَ بما قالتِ الأنصارُ، فقال: "يا معشرَ الأنصار، تقولون: أمّا الرجل أخذته رأفةٌ بقومِه، ورغبةٌ في قريتِه"، قال: "فمَن أنا إذًا، كلَّا والله، إني عبدُ الله ورسولُه حقًّا، فالمَحْيا محياكُم، والمَماتُ مماتُكُم"، قالوا: والله يا رسول الله ما قلنا ذلك إلّا مخافةَ أن يُعادُّونا، قال: "أنتم صادِقون عند اللهِ وعند رسولِه"، قال: فوالله ما منهم إلَّا مَن بلَّ نحرَه بالدُّموع (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2328 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ کی فتح کے لیے روانہ ہوئے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”انصار کو پکارو“، میں نے آواز دی: اے گروہِ انصار! رسول اللہ ﷺ کی پکار پر لبیک کہو، تو وہ سب اس طرح تیزی سے آئے گویا ان کا پہلے سے کوئی وعدہ تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس راستے پر چلو، اور جو بھی تمہارے سامنے آئے اسے مغلوب کیے بغیر نہ چھوڑنا“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور اللہ نے مکہ آپ کے لیے فتح کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس دروازے سے باہر نکلے جو صفا کی طرف ہے اور صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے، وہاں لوگوں سے خطاب فرمایا جبکہ انصار آپ سے نیچے نشیب میں موجود تھے، تب انصار نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے دل میں اپنی قوم کے لیے نرمی اور اپنے شہر کی رغبت پیدا ہو گئی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے انصار کی اس بات پر وحی نازل فرما دی، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ اس شخص کے دل میں اپنی قوم کے لیے نرمی اور اپنے شہر کی رغبت پیدا ہو گئی ہے؟“ پھر فرمایا: ”اگر ایسا ہوتا تو میں کون ہوتا؟ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں اللہ کا بندہ اور اس کا سچا رسول ہوں، میرا جینا تمہارے ساتھ ہے اور میرا مرنا بھی تمہارے ہی ساتھ ہے“، انصار نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم نے یہ بات صرف اس ڈر سے کہی تھی کہ آپ ہمیں چھوڑ کر یہیں نہ رہ جائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سچے ہو“، راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کا سینہ آنسوؤں سے تر نہ ہو گیا ہو۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البناني.» [ترقيم الرساله 2359] [ترقيم الشركة 2341] [ترقيم العلميه 2328]