کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آدمی کی اولاد اس کی کمائی میں سے ہے اور اس کی کمائی کی بہترین قسم ہے، پس ان کے مال میں سے کھاؤ۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي وعبيد الله بن عمر بن ميسرة وعثمان بن أبي شَيْبة، قالوا: حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن الحَكَم، عن عُمارة بن عُمير، عن أُمّه (1)، عن عائشة، عن النبي ﷺ، قال: "ولدُ الرجلِ من كَسْبِه، مِن أطيبِ كَسْبِه، فكلُوا من أموالهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وعند سفيان الثَّوْري فيه إسناد آخر بلفظ آخر، وليس يُعلِّل أحدُ الإسنادين الآخرَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2294 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وعند سفيان الثَّوْري فيه إسناد آخر بلفظ آخر، وليس يُعلِّل أحدُ الإسنادين الآخرَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2294 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”انسان کی اولاد اس کی اپنی کمائی میں سے ہے، بلکہ اس کی بہترین کمائی ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کے مال میں سے کھا سکتے ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا يزيد بن الهيثم، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجعي، عن سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن عُمارة بن عُمير، عن عمَّته: أنها سألت عائشةَ: في حَجْري يتيمٌ، فآكلُ من ماله؟ فقالت: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ من أطيَبِ ما أكَل الرجلُ من كَسْبِه، وولدُه من كَسْبِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2295 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2295 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کی بھتیجی نے ان سے سوال کیا: میری پرورش میں ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ اس کی اپنی کمائی ہے، اور اس کی اولاد بھی اس کی اپنی کمائی کا حصہ ہے۔“