کتب حدیث › مستدرکِ حاکم › ابواب › باب: اور جسے تم تنگ دست پاؤ اس سے درگزر کرو۔
❮
❯
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي - من أصل كتابه -، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثني الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود البَدْري، قال: حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ، وكان ذا مالٍ، وكان يُدايِنُ الناسَ، وكان يقولُ لغِلْمانِه: من وَجَدتموه غنيًا، فخُذُوا منه، ومن وجدتموه مُعسِرًا، فتجاوَزُوا عنه، لعلَّ اللهَ يتجاوزُ عَنِّي، فقال اللهُ: أنا أحقُّ أن أتجاوَزَ عنه (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2). وقد أُسند عن عبد الله بن نُمير عن الأعمش:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی، وہ مالدار تھا اور لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، وہ اپنے خادموں سے کہتا تھا: جو مالدار پاؤ اس سے وصول کر لو اور جو تنگ دست پاؤ اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ بھی مجھ سے درگزر فرمائے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ اس سے درگزر کروں۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2257
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد وقفه سفيان - وهو الثَّوري - لكن رفعه غيره، كما في الطريق التالية، وصحَّ مرفوعًا أيضًا من غير هذا الوجه عن أبي مسعود، كما سيأتي بيانه. الأعمش: هو سليمان بن مِهْران، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وأبو مسعود: هو عُقبة بن عمرو الأنصاري ﵁.» [ترقيم الرساله 2257] [ترقيم الشركة 2239]
حدَّثَناه أبو حامد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبي، حدثنا عبد الله بن نُمير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن أبي مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "حُوسِب رجلٌ فلم يُوجَد له خَيرٌ"، فذكره بنحوه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2226 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی“، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2258
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، محمد بن عثمان بن أبي شيبة» [ترقيم الرساله 2258] [ترقيم الشركة 2240] [ترقيم العلميه 2226]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا لَزِمَ غَريمًا له بعشرة دنانير، فقال له: والله ما عندي قضاءٌ أَقْضِيكَهُ اليومَ، قال: فواللهِ لا أُفارِقُكَ حتَّى تَقضِيَ أو تأتيَ بحَمِيلٍ يَحمِلُ عنك، قال: واللهِ ما عندي قضاءٌ، وما أجدُ أحدًا يَحمِلُ عني، قال: فَجَرَّه إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، هذا لازِمي واستَنْظرتُه شهرًا واحدًا، فأَبى حتَّى أقضيَه أو آتيَه بحَمِيل، فقلتُ: والله ما أجدُ حَمِيلًا، ولا عندي قضاءٌ اليومَ. فقال له رسولُ الله ﷺ: "هل تَستَنظِرُه إِلّا شهرًا واحدًا؟ " قال: لا، قال: "فأنا أتحمَّل بها عنكَ" قال: فتحمَّلها رسولُ الله ﷺ عنه، فذهب الرجلُ فأتى بقَدْر ما وَعَدَه، فقال له رسولُ الله ﷺ: "من أين أصبتَ هذا الذَّهَب؟ " قال: من مَعْدِنٍ، قال: "فاذهبْ، فلا حاجةَ لنا فيها، ليس فيها خَيرٌ"، فقضاها عنه رسولُ الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري لعمرو بن أبي عمرو، والدَّرَاوَرْدِي على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2228 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دس دینار کے لیے اپنے ایک مقروض کو پکڑ لیا، مقروض نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! آج میرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں ہے، اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم ادائیگی نہ کر دو یا کوئی ضامن نہ لے آؤ جو تمہاری طرف سے ذمہ داری لے، اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی مجھے کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو میری ذمہ داری لے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ اسے کھینچ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا، اس (مقروض) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے، میں نے اس سے ایک مہینے کی مہلت مانگی مگر اس نے انکار کر دیا جب تک کہ میں ادائیگی نہ کروں یا کوئی ضامن نہ لاؤں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہ مجھے کوئی ضامن ملتا ہے اور نہ ہی آج میرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اس سے ایک مہینے سے زیادہ کی مہلت مانگ رہے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمہاری طرف سے اس کا ضامن بنتا ہوں۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ذمہ داری لے لی، پھر وہ شخص گیا اور جتنا وعدہ کیا تھا اتنا (سونا) لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں یہ سونا کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: کان سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے وہ قرض خود ادا کر دیا۔
یہ حدیث عمرو بن ابی عمرو کی وجہ سے امام بخاری کی شرط پر اور دراوردی کی وجہ سے امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2259
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد. القَعْنبي: هو عبد الله بن مَسلمة
تخریج حدیث «إسناده جيد. القَعْنبي: هو عبد الله بن مَسلمة، وعمرو بن أبي عمرو: هو مولى المطَّلب بن عبد الله حنَطْب.» [ترقيم الرساله 2259] [ترقيم الشركة 2241] [ترقيم العلميه 2228]