کتب حدیث › مستدرکِ حاکم › ابواب › باب: جو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔
❮
❯
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد ابن عبّاد المكي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن أبي حَزْرة يعقوب بن مجاهد، عن عُبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت: قال خرجت أنا وأبي نطلب العلم في هذا الحيّ من الأنصار قبل أن يهلِكُوا، فكان أولَ من لَقِينا أبو اليَسَر صاحبُ رسولِ الله ﷺ ومعه غُلامٌ له، وعليه بُردٌ ومَعافِريّ، وعلى غلامه بُرْدٌ ومَعافِريّ (1)، ومعه إضبارة (2) صُحُف، فقال له أبي: كأني أرى في وجهك سُفْعةً من غَضَب. قال: أجلْ، كان لي على فلانِ بن فلانٍ الحَراميّ (3) مالٌ، فأتيتُ أهلَه، فقلت: أثَمَّ هو؟ قالوا: لا، فخرج ابنٌ له، فقلت له: أين أبوك؟ قال: سمع كلامَك، فدخل أريكةَ أمي، فقلت: اخرُجْ، فقد علمتُ أين أنتَ، فخرج إليَّ، فقلتُ له: ما حَمَلك على أنِ اختبأتَ مني؟ قال: أنا واللهِ أُحدّثُك ولا أَكذِبُك، خشيتُ واللهِ أن أُحَدِّثَك فأَكذِبَك، أو أعِدَك فأُخلِفَك، وكنتَ صاحبَ رسولِ الله ﷺ، وكنتُ واللهِ مُعسرًا، فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فقلتُ: آللهِ، قال: آللهِ، قال: فنشر الصحيفةَ ومَحَا الحقَّ، وقال: إن وجدتَ قضاءً فاقضِ، وإلّا فأنتَ في حِلٍّ، فأشهَدُ لبَصُرَتْ عيناي هاتان - ووضع إصبعيه على عينيه - وسمعَتْه أذناي هاتان - ووضع إصبعيه في أذنيه - ووَعَاه قلبي - وأشار إلى نِيَاط قلبه - رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن أَنظَر مُعسِرًا أو وَضَعَ له، أظلَّه اللهُ في ظِلّه" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وكذلك روي مختصرًا عن زيد بن أسلم (1) ورِبْعي بن حِراش (2) وحَنْظلة بن قيس (3)، كلهم عن أبي اليَسَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2224 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
عُبادہ بن ولید بن عبادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں ان (بزرگوں) کے فوت ہونے سے پہلے علم کی تلاش میں نکلے، سب سے پہلے ہماری ملاقات رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا، ان پر ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا اور ان کے غلام پر بھی ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا، اور ان کے پاس صحیفوں کا ایک بستہ تھا، میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں حرامی پر میرا کچھ مال (قرض) تھا، میں اس کے گھر والوں کے پاس گیا اور پوچھا: کیا وہ یہاں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر اس کا ایک بیٹا باہر نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو میری والدہ کی مسہری میں جا چھپے، میں نے کہا: باہر نکلو، مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تم کہاں ہو، چنانچہ وہ میرے پاس باہر آیا، میں نے اس سے کہا: تمہیں مجھ سے چھپنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے سچ بات کہوں گا اور جھوٹ نہیں بولوں گا، اللہ کی قسم! مجھے ڈر تھا کہ میں آپ سے بات کروں تو جھوٹ بولوں، یا آپ سے وعدہ کروں تو وعدہ خلافی کروں، حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، اور اللہ کی قسم! میں تنگ دست تھا، میں نے کہا: کیا اللہ کی قسم؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے پھر کہا: کیا اللہ کی قسم؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! پھر انہوں نے صحیفہ کھولا اور وہ قرض مٹا دیا، اور کہا: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش ملے تو ادا کر دینا، ورنہ تم بری ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا - اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں - اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا - اور اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں - اور میرے دل نے اسے یاد رکھا - اور اپنے دل کی رگ کی طرف اشارہ کیا - کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسی طرح یہ حدیث مختصراً زید بن اسلم، ربعی بن حراش اور حنظلہ بن قیس سے بھی مروی ہے، یہ سب ابو الیسر سے روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2255
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو اليَسَر: هو كعب بن عمرو السَّلَمي.» [ترقيم الرساله 2255] [ترقيم الشركة 2237] [ترقيم العلميه 2224]
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عَفّان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن أنظَرَ مُعسِرًا فله بكلِّ يوم صدقةٌ قبل أن يَحِلَّ الدَّينُ، فإذا حَلَّ الدَّينُ فأنْظَرَه بعد ذلك فله بكلِّ يوم مثلُه صدقةً" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2225 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، تو اسے قرض کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہر دن کے بدلے صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جب میعاد ختم ہو جائے اور وہ پھر اسے مہلت دے، تو اسے ہر دن کے بدلے اس رقم جتنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب : البيوع / حدیث: 2256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عفان: هو ابن مسلم الصَّفّار.» [ترقيم الرساله 2256] [ترقيم الشركة 2238] [ترقيم العلميه 2225]