مستدرکِ حاکم
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً باب: لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھا ہو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن سعيد بن هانئ، عن العِرباض بن ساريَة السُّلَمي، قال: بعتُ مِن رسولِ الله ﷺ بَكْرًا، فجئتُ أتقاضَاهُ، فقلتُ: يا رسول الله، اقض ثمنَ بَكْري، قال: "نعم، لا أَقضيكَه إلّا لحِينِه"، ثم قضاني فأحسنَ قضائي، ثم جاءه أعرابيٌّ، فقال: يا رسول الله، اقضني بَكْري فقضاه بعيرًا مُسِنًّا، فقال: يا رسول الله، هذا أفضلُ من بَكْري، فقال: "هو لك، إنَّ خيرَ القومِ خيرُهم قَضاءً" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2229 - صحيحسیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ ایک جوان اونٹ بیچا، پھر میں قیمت کا تقاضا کرنے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت ادا فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میں اسے وقت پر ہی ادا کروں گا“، پھر آپ ﷺ نے بہترین طریقے سے ادائیگی فرمائی، پھر ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا جوان اونٹ مجھے ادا کر دیجیے، تو آپ ﷺ نے اسے ایک بڑی عمر کا اونٹ دیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ہی ہے، بے شک لوگوں میں بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں بہترین ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17149)، والنسائي (6169)، وابن ماجه (2286) من طريقين عن معاوية بن صالح، به.
والبَكْر، بفتح فسكون: الفتيُّ من الإبل، بمنزلة الغلام من الناس، والأنثى بَكْرة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17149)، نسائی (6169) اور ابن ماجہ (2286) نے معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے
توضیح: "البکر" اونٹ کے جوان بچے کو کہتے ہیں جیسے انسانوں میں نوجوان لڑکا۔
(1) يشير إلى أنهما أخرجاه بسياقة أخرى، فقد أخرجه البخاري (2305)، ومسلم (1601) من حديث أبي هريرة، ومسلم (1600) من حديث أبي رافع، بنحوه.
علّت / فنی نکتہ: حاکم کا اشارہ ہے کہ بخاری و مسلم نے اسے دوسرے الفاظ سے روایت کیا ہے، بخاری (2305) اور مسلم (1601) میں یہ ابوہریرہ کی روایت سے، اور مسلم (1600) میں ابورافع کی روایت سے مروی ہے۔