المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا عُهْدَةَ فَوْقَ أَرْبَعٍ باب: چار دن سے زیادہ کی ضمان نہیں۔
حدیث نمبر: 2230
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا عُهدةَ فوقَ أربعٍ" (1). وأما خلافُ هشام الدَّستُوائي إياهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عیب کی واپسی کی مدت (عہدہ) چار دن سے زیادہ نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه كسابقه. هُشَيم: هو ابن بشير الواسطي.
حکم / درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی "منقطع" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے
توضیح: ہشیم سے مراد ابن بشیر الواسطی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17292)، وابن ماجه (2245) من طريق هُشَيم بن بشير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17292) اور ابن ماجہ (2245) نے ہشیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد خالف هُشَيمًا إسماعيلُ ابنُ عَليَّة عند ابن أبي شيبة 14/ 227 فرواه عن يونس عن الحسن مرسلًا.
سندی اختلاف: اسماعیل ابن علیہ نے ہشیم کی مخالفت کی ہے اور اسے یونس عن الحسن سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی "منقطع" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے
توضیح: ہشیم سے مراد ابن بشیر الواسطی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17292)، وابن ماجه (2245) من طريق هُشَيم بن بشير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17292) اور ابن ماجہ (2245) نے ہشیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد خالف هُشَيمًا إسماعيلُ ابنُ عَليَّة عند ابن أبي شيبة 14/ 227 فرواه عن يونس عن الحسن مرسلًا.
سندی اختلاف: اسماعیل ابن علیہ نے ہشیم کی مخالفت کی ہے اور اسے یونس عن الحسن سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2230 سے ماخوذ ہے۔