کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سب سے بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة العَدْل، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود، حدثنا زُهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال: "لا أدري"، فلما أتاه جبريل ﵇، فقال: "يا جبريل، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ قال: لا أدري حتى أسألَ ربي، فانطَلَقَ جبريلُ، فمَكُثَ ما شاء الله أن يمكُث، ثم جاء، فقال: يا محمد، إنك سألتَني: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ وإني قلتُ: لا أدري، وإني سألتُ ربي، فقلت: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال: أسواقُها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قيس بن الربيع وعمرو بن ثابت بن أبي المِقْدام عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل (3). وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قيس بن الربيع وعمرو بن ثابت بن أبي المِقْدام عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل (3). وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے شہر (یا مقامات) بدترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، پھر جب جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے جبرائیل! کون سے مقامات بدترین ہیں؟“ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا یہاں تک کہ اپنے رب سے پوچھ لوں، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے اور جب تک اللہ نے چاہا وہ رکے رہے، پھر واپس آ کر عرض کیا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کون سے مقامات بدترین ہیں اور میں نے کہا تھا کہ مجھے علم نہیں، پھر میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ کون سے مقامات بدترین ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہاں کے بازار۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن الهِسنْجاني ويحيى بن المغيرة السَّعْدي، قالا: حدثنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثَار، عن عبد الله بن عمر، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البقاع خَيرٌ؟ فقال: "لا أدري"، قال: فأيُّ البقاع شَرٌّ؟ قال: "لا أدري"، فأتاه جبريلُ (1)، فقال: "سَلْ ربَّك، فقال جبريل: ما نسألُه عن شيء" قال: فانتفَضَ انتفاضةً كاد أن يُصعَقَ منهما محمدٌ ﷺ، فلما صَعِدَ جبريلُ قال الله: "سألك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، وسألك: أيُّ البقاع شَرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، قال: فقال: نعم، قال: فحَدِّثْه أَنَّ خير البِقاعِ المساجدُ، وأنَّ شَرَّ البِقاعِ الأَسواقُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات بہترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، اس نے پوچھا: کون سے مقامات بدترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، پھر جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب سے پوچھیں“، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ہم اس (اللہ) سے کسی چیز کے بارے میں (خود سے) سوال نہیں کرتے، پھر جبرائیل علیہ السلام پر ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ محمد ﷺ ان کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے، پھر جب جبرائیل علیہ السلام اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد نے آپ سے پوچھا کہ بہترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا، اور انہوں نے پوچھا کہ بدترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا؟ فرمایا: ہاں، تو اللہ نے فرمایا: انہیں بتا دیں کہ بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔