حدیث نمبر: 2177
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة العَدْل، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود، حدثنا زُهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال: "لا أدري"، فلما أتاه جبريل ﵇، فقال: "يا جبريل، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ قال: لا أدري حتى أسألَ ربي، فانطَلَقَ جبريلُ، فمَكُثَ ما شاء الله أن يمكُث، ثم جاء، فقال: يا محمد، إنك سألتَني: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ وإني قلتُ: لا أدري، وإني سألتُ ربي، فقلت: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال: أسواقُها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قيس بن الربيع وعمرو بن ثابت بن أبي المِقْدام عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل (3). وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے شہر (یا مقامات) بدترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، پھر جب جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے جبرائیل! کون سے مقامات بدترین ہیں؟“ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا یہاں تک کہ اپنے رب سے پوچھ لوں، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے اور جب تک اللہ نے چاہا وہ رکے رہے، پھر واپس آ کر عرض کیا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کون سے مقامات بدترین ہیں اور میں نے کہا تھا کہ مجھے علم نہیں، پھر میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ کون سے مقامات بدترین ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہاں کے بازار۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2177
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، كما تقدم برقم (307).» [ترقيم الرساله 2177] [ترقيم الشركة 2158] [ترقيم العلميه 2148]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، كما تقدم برقم (307).
حکم / درجۂ حدیث: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے یہ سند متابعات میں
حسن ہے۔
(3) أخرجه من طريق قيس الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "بغية الباحث" للهيثمي (420)، والطبراني في "الكبير" (1545). وأما طريق عمرو بن ثابت فقد تقدَّمت عند المصنف برقم (308).
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ اور طبرانی نے قیس کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2177 سے ماخوذ ہے۔