المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
إنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ ، وإنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ . باب: سب سے بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
حدَّثَناه عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن الهِسنْجاني ويحيى بن المغيرة السَّعْدي، قالا: حدثنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثَار، عن عبد الله بن عمر، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البقاع خَيرٌ؟ فقال: "لا أدري"، قال: فأيُّ البقاع شَرٌّ؟ قال: "لا أدري"، فأتاه جبريلُ (1)، فقال: "سَلْ ربَّك، فقال جبريل: ما نسألُه عن شيء" قال: فانتفَضَ انتفاضةً كاد أن يُصعَقَ منهما محمدٌ ﷺ، فلما صَعِدَ جبريلُ قال الله: "سألك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، وسألك: أيُّ البقاع شَرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، قال: فقال: نعم، قال: فحَدِّثْه أَنَّ خير البِقاعِ المساجدُ، وأنَّ شَرَّ البِقاعِ الأَسواقُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات بہترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، اس نے پوچھا: کون سے مقامات بدترین ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا“، پھر جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب سے پوچھیں“، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ہم اس (اللہ) سے کسی چیز کے بارے میں (خود سے) سوال نہیں کرتے، پھر جبرائیل علیہ السلام پر ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ محمد ﷺ ان کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے، پھر جب جبرائیل علیہ السلام اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد نے آپ سے پوچھا کہ بہترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا، اور انہوں نے پوچھا کہ بدترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا؟ فرمایا: ہاں، تو اللہ نے فرمایا: انہیں بتا دیں کہ بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
تصحیحِ متن: "پس ان کے پاس جبرئیلؑ آئے" کا جملہ قلمی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے علامہ ذہبی کی تلخیص سے مکمل کیا گیا ہے۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وسماع جرير - وهو ابن عبد الحميد - منه بعد اختلاطه، وقد تقدم برقم (310).
حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث
حسن لغیرہ ہے۔ عطاء بن السائب آخری عمر میں اختلاط (یادداشت کی کمزوری) کا شکار ہو گئے تھے اور جریر نے ان سے اسی دور میں سنا تھا۔