حدیث نمبر: 2176
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي؛ قال أبو بكر بن إسحاق: أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا أبي، قال: سمعت يونس بن عُبيد يحدِّث عن الحسن، عن عمرو بن تَغْلِبَ، قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ مِن أشراطِ الساعة أن يَفيضَ المالُ، ويَكثُرَ الجهلُ، وتَظهَرَ الفِتَنُ، وتَفْشُوَ التجارةُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإسناده على شرطهما صحيح، إلّا أنَّ عمرو بن تَغْلِب ليس له راوٍ غير الحسن (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2147 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مال کی فراوانی ہو جائے گی، جہالت بڑھ جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے اور تجارت پھیل جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کی سند ان کی شرط پر صحیح ہے مگر عمرو بن تغلب سے صرف حسن (بصری) ہی روایت کرنے والے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2176
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.» [ترقيم الرساله 2176] [ترقيم الشركة 2157] [ترقيم العلميه 2147]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 39/ (24009/ 78)، لكن بلفظ: "ويظهر القلم" بدل الفتن، ودون ذكر كثرة الجهل.
لفظی اختلاف: مسند احمد میں "فتنوں" کے بجائے "قلم کا ظاہر ہونا" (لکھنے پڑھنے کی کثرت) کے الفاظ ہیں اور جہالت کی کثرت کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه النسائي (6005) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد. كلفظ رواية أحمد. والذي في مطبوع النسائي: "ويظهر الجهل" مع أنَّ الذي في أصله الخطي: "ويظهر القلم"، وهو الصحيح الموافق لرواية أحمد، فلا مَعدِل عنه، ولا وجه للقول بأنه تحريف كما ادعى المعلِّق على "سنن النسائي الكبرى".
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے وہب بن جریر کی سند سے روایت کیا ہے، جس میں "قلم کا ظاہر ہونا" ہی درست لفظ ہے۔
وقد فسَّر عمرو بن تغلب صحابي الحديث ظهور القلم بقوله: فإن كان الرجل ليبيع البيع فيقول: حتى أستأمر تاجر بني فلان، ويُلتمس في الحي العظيم الكاتب ولا يُوجد.
تشریح: صحابیِ رسول عمرو بن تغلبؓ نے "ظہورِ قلم" کی تشریح یہ کی کہ تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ تاجر دوسرے تاجر سے مشورہ کرے گا اور پورے قبیلے میں کوئی لکھنے والا (کاتب) ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔
وقال عز الدين بن الأثير في "أسد الغابة" في ترجمة عمرو بن تغلب: يعني: يكثر الذين يكتبون، فإنَّ الكتابة كانت قليلة في العرب.
تشریح: ابن اثیر فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لکھنے والوں کی کثرت ہو جائے گی، کیونکہ عرب میں پہلے لکھنا پڑھنا بہت کم تھا۔
(1) قد ذكرنا فيما سلف عند الحديث (97) أنَّ هذه الدعوى من الحاكم غير مسلَّمة في شرط الصحيح، على أنَّ البخاري قد أخرج حديثًا آخر للحسن عن عمرو بن تغلب في أشراط الساعة أيضًا برقم (2927)، فتأكد بطلان تلك الدعوى، والله ولي التوفيق.
تحقیقی نکتہ: امام حاکم کا یہ دعویٰ کہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے، تسلیم نہیں کیا گیا، کیونکہ بخاری نے اس موضوع پر دوسری حدیث روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2176 سے ماخوذ ہے۔