حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشْتَكي، حدثنا أَبي، حدثنا أَبي، حدثنا عمرو بن أبي قيس عن عاصم، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ نحوه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے مثل فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا جعفر بن محمد القَلانِسي بمصر، حدثنا داود بن الربيع، حدثنا حفص بن مَيسَرة، عن عُقبة بن محمد بن عُقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "ألا يستطيعُ أحدُكم أن يقرأَ ألفَ آيةٍ في كلّ يوم؟ " قالوا: ومن يستطيع أن يقرأَ ألفَ آيةٍ؟ قال: "أمَا يستطيعُ أحدُكم أن يقرأَ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ " (2). رواة هذا الحديث ثقات، وعقبة هذا غير مشهور.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر روز ایک ہزار آیات تلاوت کرے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ایک ہزار آیات پڑھنے کی ہمت کون رکھتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] پڑھنے کی قدرت نہیں رکھتا؟“
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، البتہ عقبہ نامی راوی زیادہ مشہور نہیں ہیں۔
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، البتہ عقبہ نامی راوی زیادہ مشہور نہیں ہیں۔