کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ کہف کی تلاوت کی فضیلت اور مختلف سورتوں و آیات کے فضائل کا بیان۔
أخبرنا أبو الحُسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد، حدثنا يحيى بن كثير، حدثنا شعبة، عن أبي هاشم [عن أبي مِجلَزٍ] (1) عن قيس بن عُبَاد، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "من قرأ سورةَ الكهف كما أُنزلت كانت له نُورًا يومَ القيامة من مَقامِه إلى مكةَ. ومن قرأ عشرَ آيات مِن آخرها ثُمَّ خرج الدجّالُ، لم يُسلَّطْ عليه. ومن توضأ ثم قال: سبحانَك اللهمَّ وبِحمدِك، لا إله إلَّا أنت أستغفرُك وأتوبُ إليك، كُتِبَ في رَقٍّ، ثم طُبِع بطابَعٍ فلم يُكْسَر إلى يومِ القيامة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ورواه سفيان الثَّوْري عن أبي هاشم فأوقفه:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ورواه سفيان الثَّوْري عن أبي هاشم فأوقفه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سورہ کہف اسی طرح پڑھی جیسے وہ نازل کی گئی ہے، تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن اس کے مقام سے لے کر مکہ تک نور ہوگی، اور جس نے اس کے آخر کی دس آیات پڑھ لیں پھر دجال نکل آیا تو وہ اس پر مسلط نہیں ہو سکے گا، اور جس نے وضو کیا پھر یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو یہ ایک کاغذ پر لکھ کر اس پر مہر لگا دی جاتی ہے جو قیامت تک نہیں توڑی جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، سفیان ثوری نے اسے ابو ہاشم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، سفیان ثوری نے اسے ابو ہاشم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وأخبرني محمد بن موسى بن عِمران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو موسى؛ قالا: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن أبي هاشم، عن أبي مِجلَزٍ، عن قيس بن عُبَادٍ، عن أبي سعيد الخُدْري قال: من قرأ سورةَ الكهف، فذكره بنحوه (1)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل موقوفاً مروی ہے (جیسا کہ اوپر گزرا ہے)۔