المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
سُورَةُ يس اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ باب: سورۂ یٰس: اپنے مرنے والوں کے پاس پڑھو۔
حدیث نمبر: 2099
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّيّ، حدثنا عارم بن الفضل أبو النُّعمان، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن سليمان التَّيمي، عن أبي عثمان - وليس بالنَّهدي - عن أبيه، عن مَعقِل بن يسار قال: قال رسول الله ﷺ: "سورةُ يس اقرَؤوها عند مَوْتاكم" (1). أوقفه يحيى بن سعيد (2) وغيرُه عن سليمان التَّيمي، والقول فيه قولُ ابن المبارك، إذ الزيادةُ من الثقة مقبولةٌ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مرنے والوں (یا قریب المرگ لوگوں) پر سورہ یٰسین پڑھا کرو۔“
یحییٰ بن سعید اور دیگر نے اسے سلیمان تیمی سے موقوفاً بیان کیا ہے لیکن ابن مبارک کی بات (مرفوع ہونا) معتبر ہے کیونکہ ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة أبي عثمان المذكور وأبيه، ولاضطرابه كما سيأتي.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابو عثمان اور ان کے والد کے "مجہول" ہونے اور اضطراب کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20301) عن عارم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عارم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20314)، وأبو داود (3121)، وابن ماجه (1448) من طرق عن عبد الله بن المبارك، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن المبارک کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10314) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن المبارك، به. دون ذكر والد أبي عثمان.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے ولید بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں ابو عثمان کے والد کا ذکر نہیں۔
وأخرجه أحمد (20300)، والنسائي (10847) من طريق معتمر بن سليمان، عن أبيه، عن رجلٍ، عن أبيه، عن معقل.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے معتمر بن سلیمان کے طریق سے "عن رجل عن ابیہ" (ایک مبہم شخص) کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3002) من طريق يحيى بن القطان، عن سليمان التيمي، عن أبي عثمان، عن معقل. دون ذكر والد أبي عثمان كذلك.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے یحییٰ القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) كذا ذكر الحاكم أنَّ يحيى القطان أوقفه، مع أنَّ ابن حبان قد أخرجه (3002) من طريقه مرفوعًا، فالله أعلم!
نوٹ / توضیح: حاکم کا یہ کہنا کہ یحییٰ القطان نے اسے "موقوف" کیا ہے محلِ نظر ہے، کیونکہ ابن حبان نے ان سے اسے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابو عثمان اور ان کے والد کے "مجہول" ہونے اور اضطراب کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20301) عن عارم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عارم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20314)، وأبو داود (3121)، وابن ماجه (1448) من طرق عن عبد الله بن المبارك، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن المبارک کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10314) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن المبارك، به. دون ذكر والد أبي عثمان.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے ولید بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں ابو عثمان کے والد کا ذکر نہیں۔
وأخرجه أحمد (20300)، والنسائي (10847) من طريق معتمر بن سليمان، عن أبيه، عن رجلٍ، عن أبيه، عن معقل.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے معتمر بن سلیمان کے طریق سے "عن رجل عن ابیہ" (ایک مبہم شخص) کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3002) من طريق يحيى بن القطان، عن سليمان التيمي، عن أبي عثمان، عن معقل. دون ذكر والد أبي عثمان كذلك.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے یحییٰ القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) كذا ذكر الحاكم أنَّ يحيى القطان أوقفه، مع أنَّ ابن حبان قد أخرجه (3002) من طريقه مرفوعًا، فالله أعلم!
نوٹ / توضیح: حاکم کا یہ کہنا کہ یحییٰ القطان نے اسے "موقوف" کیا ہے محلِ نظر ہے، کیونکہ ابن حبان نے ان سے اسے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2099 سے ماخوذ ہے۔