حدیث نمبر: 2096
أخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ سعيد بن أبي هلال حدَّثه عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي أُمامة الباهلي، قال: قال رسول الله ﷺ: "تَعلَّموا القرآنَ، فإنه شفيعٌ لأهله يومَ القيامة، واقرؤوا الزَّهْراوَين" قيل: يا رسول الله، وما الزهراوان؟ قال: "البقرةُ وآلُ عمران، فإنهما يأتِيانِ يومَ القيامة كأنهما غَمامتانِ - أو كأنهما غَيَايتان - أو كفِرْقَين من الطَّير بِيضٍ صَوافَّ، يَدفعان بأجنحتهما عن أصحابهما، تَعلَّموا البقرةَ فإنَّ تعليمها بركةٌ، وتركَها حَسْرةٌ، ولا يستطيعها البَطَلةُ" (1). ذكر فضائل سُوَرِ آيٍ متفرقة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا، اور تم دو روشن سورتیں (الزہراوان) پڑھا کرو“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! الزہراوان کیا ہیں؟ فرمایا: ”سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا پر پھیلائے ہوئے سفید پرندوں کی دو ڈاریں ہوں، یہ اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی، سورہ بقرہ سیکھو کیونکہ اسے حاصل کرنا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، اور جادوگر (یا سست لوگ) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2096
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2096] [ترقيم الشركة 2079]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن زيد بن سلّام لم يسمعه من أبي أمامة، إنما سمعه من جدّه أبي سلّام عن أبي أمامة، كما توضحه رواية أبان بن يزيد وعلي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير. وكذلك رواه معاوية بن سلّام عن أخيه زيد، بذكر جده أبي سلّام.
علّت / فنی نکتہ: حدیث صحیح ہے مگر زید بن سلام کا ابو امامہ سے انقطاع ہے، انہوں نے یہ اپنے دادا ابو سلام سے سنی ہے جیسا کہ دیگر روایات میں صراحت ہے۔
أما رواية أبان، فستأتي عند المصنف برقم (3172) مختصرةً.
تکرار: ابان کی مختصر روایت نمبر (3172) پر آئے گی۔
وأخرجه ابن حبان (116) من طريق علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدِّه أبي سلام، عن أبي أمامة.
حوالہ / مصدر: ابن حبان نے اسے علی بن مبارک عن یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے متصل روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (804) من طريق معاوية بن سلّام، عن أخيه زيد، أنه سمع أبا سلّام يقول: حدثني أبو أمامة، فذكره.
حوالہ / مصدر: صحیح مسلم میں یہ معاویہ بن سلام کے طریق سے مروی ہے جس میں دادا سے سماع کا ذکر موجود ہے۔
وفي الباب عن بريدة الأسلمي، وقد سلف برقم (2080).
متابعات و شواہد: اس باب میں بریدہ اسلمی کی حدیث نمبر (2080) پر گزر چکی ہے۔
وفي شفاعة القرآن انظر حديث عبد الله بن عمرو المتقدم برقم (2059).
ہدایت: قرآن کی شفاعت کے لیے عبداللہ بن عمرو کی حدیث (2059) ملاحظہ کریں۔
والبَطَلة، قيل: هم السَّحَرة، يقال: أبطَلَ: إذا جاء بالباطل.
نوٹ / توضیح: "بطلہ" سے مراد جادوگر ہیں، کیونکہ وہ باطل (جھوٹ) لاتے ہیں۔
والزهراوان: تثنية الزهراء، بمعنى: النيِّرة المضيئة، وسُمِّيا بذلك لنورهما وهدايتهما وعظيم أجرهما.
نوٹ / توضیح: "زہراوان" کا معنی روشن اور چمکدار سورتیں (بقرہ و آل عمران) ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2096 سے ماخوذ ہے۔