کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر مجنون کا شفا پانا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا زكريا بن أبي زائدة. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بشر بن موسى الأسدي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن الشعبي، عن خارجة بن الصَّلْت التميمي، عن عمه: أنه مرَّ بقوم وعندهم مجنون مُوثَقٌ في الحديد، فقال له بعضهم: أعندك شيء يُداوَى به هذا؟ فإنَّ صاحبكم قد جاء بخير، قال: فقرأت عليه فاتحة الكتاب ثلاثةَ أيام في كلِّ يوم مرتين، فبَرأ، فأعطاه مئةَ شاةٍ، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال: "كُلْ، فمَن أكل برُقْيةِ باطلٍ، فقد أكلتَ برُقْيَةِ حَقٍّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک قوم پر ہوا جن کے پاس ایک دیوانہ شخص تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، ان میں سے کسی نے ان سے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے اس کا علاج کیا جا سکے؟ کیونکہ آپ کے ساتھی (نبی ﷺ) تو خیر لے کر آئے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس پر تین دن تک ہر روز دو مرتبہ فاتحہ الکتاب پڑھی، تو وہ ٹھیک ہو گیا، اس شخص نے انہیں سو بکریاں دیں، وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، کیونکہ جس نے باطل دم کے ذریعے کھایا (وہ گناہ گار ہے) لیکن تم نے تو حق دم کے ذریعے کھایا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2078
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل خارجة بن الصلت، فقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان وابن خلفون في "الثقات"، وقال الذهبي: محله الصدق؛ وهو كما قال أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، والشعبي: هو عامر بن شَراحيل.» [ترقيم الرساله 2078] [ترقيم الشركة 2062]
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا علي بن عبد الحميد المعنيّ، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: كان النبي ﷺ في مَسيرٍ فنزل ونزل رجلٌ إلى جانبه، قال: فالتفتَ النبيُّ ﷺ فقال: "ألا أُخبِرُك بأفضلِ القرآنِ؟ "، قال: فتلا عليه: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نیچے اترے اور ایک شخص بھی آپ کے پہلو میں اترا، نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر آپ ﷺ نے اسے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ پڑھ کر سنائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2079
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس الحافظ المعروف.» [ترقيم الرساله 2079] [ترقيم الشركة 2063]