حدیث نمبر: 2077
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ في غَزاةٍ أو سَريّةٍ، فمررنا على أهل أبيات، فاستضفناهم، فلم يضيِّفُونا، فنزلنا بالعَراء، فلُدِغ سيدُهم، فأتَونا فقالوا: هل أحدٌ منكم يَرقي؟ فقلت: أنا رَاقٍ، قال: فارْقِ صاحِبَنا، فقلت: لا، قد استضَفْناكم فلم تُضَيِّفونا، قالوا: فإنا نجعلُ لكم، فجَعَلُوا لنا ثلاثين شاةً، قال: فأتيتُه فجعلتُ أمسَحُه وأقرأ فاتحةَ الكتاب وأُردِّدُها حتى بَرَأ، فأخذنا الشِّياه، فقلنا: أخذناه ونحن لا نُحسِنُ أن نَرقي، ما نحن بالذي نأكُلُها حتى نسألَ رسولَ الله ﷺ، فأتيناه فذكرنا ذلك له، قال: فجعل يقول: "وما يُدريكَ أنها رُقْيةٌ؟ " قلت: يا رسول الله، ما دَرَيتُ أنها رُقْيةٌ، ولكن شيءٌ ألقى اللهُ في نفسي، فقال رسول الله ﷺ: "كُلُوا واضرِبُوا لي معكم بسَهمٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2). وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا، ہمارا گزر کچھ گھروں والوں پر ہوا، ہم نے ان سے ضیافت طلب کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ہم نے کھلے میدان میں پڑاؤ ڈال لیا، اسی دوران ان کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں دم کرتا ہوں، انہوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیں، میں نے کہا: نہیں، ہم نے تم سے ضیافت مانگی تھی اور تم نے انکار کر دیا تھا، اب ہم اجرت کے بغیر دم نہیں کریں گے، چنانچہ انہوں نے ہمارے لیے تیس بکریاں مقرر کر دیں، راوی کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا اور فاتحہ الکتاب پڑھ کر بار بار دہرانے لگا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گیا، ہم نے بکریاں لے لیں لیکن ہم نے آپس میں کہا کہ ہم انہیں اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہ لیں، چنانچہ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، آپ ﷺ فرمانے لگے: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پہلے سے معلوم نہیں تھا لیکن یہ ایک بات تھی جو اللہ نے میرے دل میں ڈال دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہیں کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2077
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو نَضْرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.» [ترقيم الرساله 2077] [ترقيم الشركة 2061]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو نَضْرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ جریر سے مراد ابن عبدالحمید، اعمش سے سلیمان بن مہران اور ابو نضرہ سے منذر بن مالک بن قطعہ مراد ہیں۔
وقد خالف الأعمشَ جماعة من الثقات منهم شعبة وأبو عوانة وهُشيم، فرووه عن أبي بشر جعفر بن إياس، عن أبي المتوكّل علي بن داود الناجيّ، عن أبي سعيد، فذكروا أبا المتوكّل بدل أبي نضرة. وقد صحَّح أبو زرعة وابن ماجه والدارقطني روايتهم، وقال الترمذي: هي أصح من رواية الأعمش، لكن قال الحافظ في "الفتح" 7/ 334: الذي يترجح في نقدي أنَّ الطريقين محفوظان، لاشتمال طريق الأعمش على زيادات في المتن ليست في رواية شعبة ومن تابعه، فكأنه كان عند أبي بشر عن شيخين، فحدث به تارة عن هذا وتارة عن هذا، ولم يُصِب ابنُ العربي في دعواه أنَّ هذا الحديث مضطرب، فقد رواه عن أبي سعيد أيضًا معبد بن سيرين وسليمان بن قَتَّة. انتهى.
علّت / فنی نکتہ: اعمش کی مخالفت ثقہ راویوں کی ایک جماعت (شعبہ، ابو عوانہ وغیرہ) نے کی ہے، انہوں نے "ابو نضرہ" کے بجائے "ابو المتوکل" کا ذکر کیا ہے۔ ابو زرعہ، ابن ماجہ اور دارقطنی نے ان کی تائید کی ہے، لیکن حافظ ابن حجر کے نزدیک دونوں سندیں محفوظ (درست) ہیں، کیونکہ اعمش کی روایت میں متن میں کچھ اضافے ہیں جو دوسروں کے ہاں نہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6112) من طريق عثمان بن أبي شيبة، عن جرير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے عثمان بن ابی شیبہ عن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11070)، وابن ماجه (2156)، والترمذي (2063)، والنسائي (7490) و (10799) و (10802) من طرق عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے اعمش کے مختلف طرق سے اسے روایت کیا ہے۔
قوله: نَجعَلُ لكم، من الجُعْل بالضم، وهو: الأجرة على قول أو فعل.
نوٹ / توضیح: "نجعل لکم" میں لفظ 'جُعل' سے مراد وہ اجرت یا بدلہ ہے جو کسی کام یا قول کے عوض دیا جائے۔
(2) كذا اقتصر المصنف على عزوه لمسلم (2201)، مع أنه عند البخاري أيضًا، لكن من طريق أبي عوانة (2276) ومن طريق شعبة بن الحجاج (5736) كلاهما عن أبي بشر. على أنَّ مسلمًا قد أخرجه أيضًا (2201) من طريق شعبة.
نوٹ / توضیح: مصنف (حاکم) نے اسے صرف مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ یہ بخاری میں بھی ابو عوانہ اور شعبہ کے طریق سے موجود ہے۔
(3) هو عند البخاري برقم (5007)، وفات الحاكم أنه عند مسلم أيضًا برقم (2201) (66).
حوالہ / مصدر: یہ بخاری (5007) میں ہے، اور حاکم سے یہ فروگزاشت ہوئی کہ یہ مسلم (2201) میں بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2077 سے ماخوذ ہے۔