المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
شِفَاءُ الْمَجْنُونِ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ باب: تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر مجنون کا شفا پانا۔
حدیث نمبر: 2079
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا علي بن عبد الحميد المعنيّ، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: كان النبي ﷺ في مَسيرٍ فنزل ونزل رجلٌ إلى جانبه، قال: فالتفتَ النبيُّ ﷺ فقال: "ألا أُخبِرُك بأفضلِ القرآنِ؟ "، قال: فتلا عليه: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نیچے اترے اور ایک شخص بھی آپ کے پہلو میں اترا، نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر آپ ﷺ نے اسے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ پڑھ کر سنائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس الحافظ المعروف.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو حاتم رازی مشہور حافظِ حدیث محمد بن ادریس ہیں۔
وأخرجه النسائي (7957) و (10491)، وابن حبان (774) من طريقين عن علي بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی اور ابن حبان نے علی بن عبدالحمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو حاتم رازی مشہور حافظِ حدیث محمد بن ادریس ہیں۔
وأخرجه النسائي (7957) و (10491)، وابن حبان (774) من طريقين عن علي بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی اور ابن حبان نے علی بن عبدالحمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2079 سے ماخوذ ہے۔