کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو لوگ اللہ کا ذکر کریں اور اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجیں تو وہ مجلس ان کے لیے باعثِ ندامت ہو گی۔
حدثنا أحمد بن عُبيد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن إسحاق بن عبد الله بن الحارث، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "ما جَلَسَ قومٌ يَذكُرون اللهَ لم يُصلُّوا على نَبيِّهم، إلَّا كان ذلك المجلسُ عليهم تِرَةً، ولا قَعَدَ قومٌ لم يَذكُروا الله، إلَّا كان ذلك عليهم تِرَةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر نہ کریں اور نہ ہی اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ مجلس ان کے لیے باعثِ حسرت و نقصان ہوگی، اور جو لوگ بھی (کسی جگہ) بیٹھے اور اللہ کا ذکر نہ کیا تو وہ (بیٹھنا) ان کے لیے باعثِ حسرت و نقصان ہی ہوگا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن بُرَيد بن أبي مريم، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن صلَّى عليَّ صلاةً، صلَّى اللهُ عليه عشرَ صلَواتٍ، وحَطَّ عنه عشرَ خَطِيئاتٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا سُليمان بن بلال، حدثني عَمرو بن أبي عَمرو، عن عاصم بن عمر بن قَتادة، عن عبد الواحد بن محمد بن عبد الرحمن بن عَوف، عن عبد الرحمن بن عَوف، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إني لَقِيتُ جبريلَ ﵇ فبَشَّرني، وقال: إنَّ ربّك يقول لك: من صَلَّى عليكَ صَلَّيتُ عليه، ومن سَلَّم عليكَ سلَّمْتُ عليه، فسجدتُ لله شُكرًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الدعوات [كتاب فضائل القرآن]
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الدعوات [كتاب فضائل القرآن]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے خوشخبری دی اور کہا: آپ کا رب فرماتا ہے: جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا، اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا، تو میں نے (اس خوشخبری پر) اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔