المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ ولَمْ يُصَلُّوا كَانَ الْمَجْلِسُ تِرَةً عَلَيْهِمْ باب: جو لوگ اللہ کا ذکر کریں اور اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجیں تو وہ مجلس ان کے لیے باعثِ ندامت ہو گی۔
حدیث نمبر: 2042
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا سُليمان بن بلال، حدثني عَمرو بن أبي عَمرو، عن عاصم بن عمر بن قَتادة، عن عبد الواحد بن محمد بن عبد الرحمن بن عَوف، عن عبد الرحمن بن عَوف، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إني لَقِيتُ جبريلَ ﵇ فبَشَّرني، وقال: إنَّ ربّك يقول لك: من صَلَّى عليكَ صَلَّيتُ عليه، ومن سَلَّم عليكَ سلَّمْتُ عليه، فسجدتُ لله شُكرًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الدعوات [كتاب فضائل القرآن]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے خوشخبری دی اور کہا: آپ کا رب فرماتا ہے: جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا، اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا، تو میں نے (اس خوشخبری پر) اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن إن شاء الله بمجموع طرقه على خلاف في إسناده كما هو مبيَّن في التعليق على الحديث في "مسند أحمد"، وفي "علل الدارقطني" (577).
حکم / درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اپنی تمام اسناد (طرق) کے مجموعے کے ساتھ یہ حدیث "حسن" ہے، اگرچہ اس کی سند میں اختلاف ہے جیسا کہ "مسند احمد" کی تعلیق اور "علل الدارقطنی" (577) میں واضح کیا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1664) عن أبي سعيد مولى بني هاشم، عن سليمان بن بلال، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے 3/ (1664) میں ابو سعید مولیٰ بنی ہاشم، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنِّف برقم (905) من طريق يزيد بن الهاد عن عمرو بن أبي عمرو عن عبد الرحمن بن الحويرث عن محمد بن جُبير بن نُفير عن عبد الرحمن بن عوف.
تفصیلِ روایت: یہ حدیث مصنف (امام حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (905) پر یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی عمرو عن عبد الرحمن بن الحویرث عن محمد بن جبیر بن نفیر عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اپنی تمام اسناد (طرق) کے مجموعے کے ساتھ یہ حدیث "حسن" ہے، اگرچہ اس کی سند میں اختلاف ہے جیسا کہ "مسند احمد" کی تعلیق اور "علل الدارقطنی" (577) میں واضح کیا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1664) عن أبي سعيد مولى بني هاشم، عن سليمان بن بلال، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے 3/ (1664) میں ابو سعید مولیٰ بنی ہاشم، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وقد تقدَّم عند المصنِّف برقم (905) من طريق يزيد بن الهاد عن عمرو بن أبي عمرو عن عبد الرحمن بن الحويرث عن محمد بن جُبير بن نُفير عن عبد الرحمن بن عوف.
تفصیلِ روایت: یہ حدیث مصنف (امام حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (905) پر یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی عمرو عن عبد الرحمن بن الحویرث عن محمد بن جبیر بن نفیر عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2042 سے ماخوذ ہے۔