حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو عمر حفص بن عمر، حدثنا عبد العزيز بن مُسلم، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "خُذُوا جُنَّتَكم" قلنا: يا رسول الله مِن عدوٍّ قد حَضَر؟ قال: "لا، بل جُنَّتَكم من النار؛ قَولُ: سُبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إلَّا الله، واللهُ أكبر، فإنهنَّ يأتينَ يومَ القيامةِ مُنجِياتٍ ومُقدَّماتٍ، وهنَّ الباقياتُ الصالحاتُ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ڈھال لے لو۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی دشمن کی وجہ سے جو سامنے آ گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے اپنی ڈھال لے لو؛ (اور وہ ڈھال یہ ہے) «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» کہنا، کیونکہ یہ کلمات قیامت کے دن نجات دلانے والے اور آگے چلنے والے بن کر آئیں گے، اور یہی ﴿الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ﴾ ”باقی رہنے والی نیکیاں“ ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب، حدثنا خَلّاد بن يزيد الجُعفي، حدثنا شَريك، عن الأعمش، عن مُجاهد، عن ابن عُمر، قال: كان رسولُ الله ﷺ يدعُو: "اللهمَّ إني أسألُك عِيشةً نَقِيَّةً، ومِيتةً سَوِيّةً، ومَرَدًّا غيرَ مُخْزِي (1) ولا فاضِحٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً، وَمِيتَةً سَوِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزِي وَلَا فَاضِحٍ» ”اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ زندگی، اعتدال والی موت اور ایسی واپسی (آخرت) کا سوال کرتا ہوں جو رسوا کن اور شرمندہ کرنے والی نہ ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل بن حَمْدَوَيهِ الفقيه إملاءً ببُخارَى، حدثنا أبو علي صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ البغدادي، حدثنا سعيد بن سُليمان الواسطي، حدثنا عيسى بن ميمون مولى القاسم بن محمد بن أبي بكر الصِّدِّيق، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أنَّ رسولَ الله ﷺ كان يدعُو: "اللهمَّ اجعل أوسعَ رزقِك عليَّ عند كِبَر سِنّي، وانقطاعِ عُمري" (1).
هذا حديث حسنُ الإسناد والمتن، غريبٌ في الدعاء مستحَبٌّ للمشايخ، إلَّا أنَّ عيسى بن ميمون لم يَحتَجَّ به الشيخان ﵄.
هذا حديث حسنُ الإسناد والمتن، غريبٌ في الدعاء مستحَبٌّ للمشايخ، إلَّا أنَّ عيسى بن ميمون لم يَحتَجَّ به الشيخان ﵄.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي» ”اے اللہ! میرے رزق کی وسعت کو میری عمر کے آخری حصے (بڑھاپے) اور میری زندگی کے خاتمے کے وقت مجھ پر زیادہ کر دے۔“
اس حدیث کی سند اور متن حسن ہے، دعا کے باب میں یہ غریب ہے اور بزرگوں کے لیے مستحب ہے، سوائے اس کے کہ عیسیٰ بن میمون سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند اور متن حسن ہے، دعا کے باب میں یہ غریب ہے اور بزرگوں کے لیے مستحب ہے، سوائے اس کے کہ عیسیٰ بن میمون سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي جعفر الخَطْمي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن أبي هريرة، قال: كان فيكُم أمانانِ، مضتْ إحداهُما وبقيتِ الأخرى: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الأنفال: 33] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد اتفقا على أنَّ تفسير الصحابي حديثٌ مُسنَدٌ (2). وله شاهدٌ عن أبي موسى الأشعَري:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد اتفقا على أنَّ تفسير الصحابي حديثٌ مُسنَدٌ (2). وله شاهدٌ عن أبي موسى الأشعَري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: تمہارے درمیان امن کی دو ضمانتیں تھیں، ان میں سے ایک (نبی کریم ﷺ کی موجودگی) رخصت ہو گئی جبکہ دوسری (استغفار) باقی ہے: ﴿وَمَا كَانَ اللَّه لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّه مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ انہیں عذاب دے جبکہ آپ (ﷺ) ان کے درمیان موجود ہوں، اور نہ ہی اللہ انہیں اس حال میں عذاب دینے والا ہے کہ وہ بخشش مانگ رہے ہوں۔“ [سورة الأنفال: 33]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابی کی تفسیر حدیثِ مسند کے حکم میں ہوتی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابی کی تفسیر حدیثِ مسند کے حکم میں ہوتی ہے۔
أخبرَناه أبو العباس السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا صَدَقة بن الفضل، حدثنا وكيع بن الجرّاح، حدثني حَرْمَلة بن قيس، عن محمد (3) بن أبي أيوب، عن أبي موسى الأشعَري، قال: أمانانِ كانا في الأرض، فرُفِعَ أحدُهما وبقيَ الآخَرُ: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: زمین میں امن کی دو ضمانتیں تھیں، ان میں سے ایک اٹھا لی گئی جبکہ دوسری باقی ہے: ﴿وَمَا كَانَ اللَّه لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّه مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ انہیں عذاب دے جبکہ آپ (ﷺ) ان کے درمیان موجود ہوں، اور نہ ہی اللہ انہیں اس حال میں عذاب دینے والا ہے کہ وہ بخشش مانگ رہے ہوں۔“ [سورة الأنفال: 33]