المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
المُنْجِيَاتُ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ باب: نجات دینے والی باقیاتِ صالحات کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي جعفر الخَطْمي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن أبي هريرة، قال: كان فيكُم أمانانِ، مضتْ إحداهُما وبقيتِ الأخرى: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الأنفال: 33] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد اتفقا على أنَّ تفسير الصحابي حديثٌ مُسنَدٌ (2). وله شاهدٌ عن أبي موسى الأشعَري:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: تمہارے درمیان امن کی دو ضمانتیں تھیں، ان میں سے ایک (نبی کریم ﷺ کی موجودگی) رخصت ہو گئی جبکہ دوسری (استغفار) باقی ہے: ﴿وَمَا كَانَ اللَّه لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّه مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ انہیں عذاب دے جبکہ آپ (ﷺ) ان کے درمیان موجود ہوں، اور نہ ہی اللہ انہیں اس حال میں عذاب دینے والا ہے کہ وہ بخشش مانگ رہے ہوں۔“ [سورة الأنفال: 33]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابی کی تفسیر حدیثِ مسند کے حکم میں ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو جعفر الخطمی سے مراد عمیر بن یزید الانصاری ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (645) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (645) میں امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) انظر الكلام على هذه المسألة فيما تقدَّم برقم (73).
اہم نکتہ: اس مسئلے کی تفصیلی بحث نمبر (73) پر گزر چکی ہے۔