فأخبرَناه أبو الطيب محمد بن أحمد بن الحسن المَناديلي (1)، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب الفرّاء، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا حجّاج بن دِينار، عن أبي هاشم، عن أبي العالِيَة، عن أبي بَرْزة الأسلَمي قال: كان رسولُ الله ﷺ بآخِرِه إذا طالَ المَجلسُ، قال: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك، أشهدُ أن لا إله إلَّا أنتَ، أستغفِرُك وأتوبُ إليك"، فقال بعضُنا: يا رسول الله، إنَّ هذا القولَ ما كنا نسمعُه منك، قال: "هذا كفَّارةُ ما يكونُ في المَجلِس" (2). وأما حديث رافع بن خَديج:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب مجلس طویل ہو جاتی تو اٹھتے وقت یہ فرماتے: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں“، ہم میں سے کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسے کلمات ہیں جو پہلے ہم نے آپ سے نہیں سنے تھے (کیا یہ نئے ہیں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان کوتاہیوں کا کفارہ ہیں جو مجلس کے دوران ہو جاتی ہیں۔“
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عُبيد الله بن أبي داود المُنادي، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا مصعب بن حَيَّان، أخو مُقاتل، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة الرِّيَاحي، عن رافع بن خَديج، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا اجتمعَ إليه أصحابُه، فأرادَ أن يَنهَضَ قال: "سبحانك اللهمَّ وبحمْدِك، أشهدُ أن لا إله إلَّا أنتَ، أستغفِرُك وأتوبُ إليك، عمِلتُ سُوءًا وظلَمتُ نفسي، فاغفِرْ لي، فإنه لا يغفِرُ الذنوبَ إِلَّا أَنتَ"، فقلنا: يا رسول الله، هذه كلماتٌ أحدَثْتَهنّ؟ قال: "أجَل، جاءني جبريلُ فقال لي: يا محمدُ، هُنَّ كفَّاراتُ المَجالِس" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب آپ کے صحابہ جمع ہوتے اور آپ ﷺ وہاں سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ کہتے: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں، میں نے برا عمل کیا اور اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا“، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمات آپ نے حال ہی میں اختیار فرمائے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: اے محمد! یہ کلمات مجلسوں کے (گناہوں کا) کفارہ ہیں۔“