حدیث نمبر: 1973
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ يقول: "استَعيِذوا باللهِ من شَرّ جار (1) المُقام، فإن جارَ المسافر إذا شاء أن يُزايِلَ زايَل" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مستقل رہائش والے پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ مسافر پڑوسی تو جب چاہے جدا ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1973
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 1973] [ترقيم الشركة 1958]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع في نسخنا الخطية: دار، والمثبت من نسخة بهامش (ز) ومن "تلخيص الذهبي"، وهو

الصواب الموافق لرواية أحمد بن حنبل وغيره عن عفان.

توضیح: نسخوں میں "دار" (گھر) لکھا تھا، مگر صحیح لفظ "جار" (پڑوسی) ہے جیسا کہ امام احمد کی روایت اور ذہبی کی تلخیص میں ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن إسحاق - وهو ابن عبد الله المدني - وقد توبع كما في الحديث السابق. عفان: هو ابن مسلم، ووُهَيب: هو ابن خالد المدني.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور عبدالرحمن بن اسحاق کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے جس کی متابعت پچھلی حدیث سے ہوتی ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8553) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عفان بن مسلم کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: زايَل، أي: فارَقَ.
لغوی تشریح: "زایل" کا مطلب ہے 'جدا ہو جانا' یا 'الگ ہو جانا'۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1973 سے ماخوذ ہے۔