کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: عفو اور عافیت مانگنے کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بِشر بن بكر، حدثني ابن جابر، حدثني سُليم بن عامر، قال: قال: سمعتُ أوسطَ البَجَليَّ على مِنبَر حِمْص يقولُ: سمعت أبا بكر الصّدّيق على مِنبَر رسولِ الله ﷺ يقولُ: سمعت رسول الله ﷺ يقول: قال: فاختَنقَتْه العَبْرةُ وبَكى، ثم قال: سمعتُ رسول الله ﷺ على هذا المِنبَر عامَ أولَ يقول: "سَلُوا اللهَ العفوَ والعافيةَ واليقينَ في الأُولى والآخِرة، فإنه ما أُوتِيَ العبدُ بعدَ اليقين خيرًا (3) من العافيةِ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ بغير هذا اللفظ من حديث ابن عباسٍ:
حافظ طلحہ بابر
اوسط البجلی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، (یہ کہتے ہی) ان کی ہچکی بندھ گئی اور وہ رو پڑے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو گزشتہ سال اسی منبر پر یہ فرماتے سنا: ”اللہ سے معافی، عافیت اور یقین کا سوال کرو دنیا اور آخرت میں، کیونکہ یقین کے بعد بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دیگر الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1959
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1959] [ترقيم الشركة 1944]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا هلال بن خَبّاب، عن عكرمة، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال لِعمِّه: "أكثرِ الدُّعاءَ بالعافيةِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، وقد رُويَ بلفظ آخر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا (عباس رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: ”عافیت کی دعا کثرت سے مانگا کرو“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے اور یہ دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1960
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو المُثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى بن معاذ العَنْبري.» [ترقيم الرساله 1960] [ترقيم الشركة 1945]