حدیث نمبر: 1958
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدلُ، حدثنا عُبيد بن شَريك وأحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، قالا: حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكير، حدثنا الليث بن سعد، عن عامر بن يحيى، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، قال: سمعتُ عبدَ الله بن عمرو يقول: قال رسول الله ﷺ: "يُصاحُ بِرجُلٍ من أُمَّتي على رُؤوس الخَلائقِ يومَ القيامة، فيُنشَرُ له تِسعٌ وتسعون سِجِلًّا، كلُّ سِجِلٍّ مدَّ البَصَر، ثم يقال له: أتُنكِرُ من هذا شيئًا؟ فيقول: لا يا ربِّ [فيقولُ: أَلَكَ عُذرٌ، أو حَسَنةٌ؟ فيَهابُ الرجلُ، فيقول: لا يا ربّ] (1) فيقول: بلى، إنَّ لك عندنا حسناتٍ، وإنه لا ظُلمَ عليكَ، فتُخرَجُ له بطاقةٌ فيها: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فيقول: يا ربِّ، ما هذه البِطاقةُ مع هذه السِّجِلّات؟ فيقول: إنك لا تُظْلَمُ، قال: فتُوضَعُ السِّجلاتُ في كِفّة، والبطاقةُ في كِفّة، فطاشَتِ السِّجِلّاتُ وثَقُلتِ البطاقةُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میری امت کے ایک شخص کو پکارا جائے گا، پھر اس کے (گناہوں کے) ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر تا حدِ نگاہ وسیع ہوگا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: نہیں اے میرے رب! (اللہ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر یا کوئی نیکی ہے؟ وہ شخص سہم جائے گا اور کہے گا: نہیں اے میرے رب!) اللہ فرمائے گا: کیوں نہیں، تمہاری نیکیاں ہمارے پاس محفوظ ہیں اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، پھر اس کے لیے ایک پرزہ (بطاقہ) نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے رب! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرزے کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ فرمائے گا: تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر رجسٹر ایک پلڑے میں اور پرزہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، تو رجسٹر (ہلکے ہو کر) اڑ جائیں گے اور وہ پرزہ بھاری ہو جائے گا“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري.» [ترقيم الرساله 1958] [ترقيم الشركة 1943]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وهو ثابت في الرواية لجميع من خرَّج هذا الحديث، وهو ثابت أيضًا في الرواية المتقدمة عند المصنف برقم (9)، ولا بد منه، لتعلُّق ما بعده به، فلذلك أثبتناه.
توضیح: نسخوں میں کچھ الفاظ گر گئے تھے جنہیں سابقہ روایت (رقم 9) اور دیگر مصادر کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبدالرحمن الحبُلی ثقہ راوی ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (9) من طريق يونس بن محمد المؤدِّب عن الليث بن سعد.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے رقم (9) پر یونس بن محمد کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1958 سے ماخوذ ہے۔