أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيّ، حدثنا عَوْن بن عُمَارة الغُبَري (2)، حدثنا رَوح بن القاسم، عن أبي جعفر الخَطْميّ، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، عن عمِّه عثمان بن حنيف: أنه أتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني دعاءً أدعو به يَردُّ اللهُ علَيَّ بَصَري، فقال له: "قُل: اللهمَّ إني أسألُك وأتوجَّه إليك بنبيِّك نَبيِّ الرحمةِ، يا محمدُ، إني قد تَوجَّهتُ بك إلى ربّي، اللهمَّ شفِّعْه فيَّ، وشفِّعني في نفسي"، فدعا بهذا الدعاء، فقام وقد أبصَرَ (3). تابعه شَبيب بن سعيد (1) الحَبَطي عن رَوح بن القاسم بزيادات في المتن والإسناد، والقولُ فيه قولُ شَبيب، فإنه ثقةٌ مأمونٌ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیں جو میں مانگوں تو اللہ میری بینائی لوٹا دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ، وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی، نبی رحمت کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد (ﷺ)! میں نے آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف رجوع کیا ہے، اے اللہ! ان کی سفارش میرے حق میں قبول فرما اور میری دعا میری اپنی ذات کے حق میں قبول فرما“، اس نے یہ دعا مانگی اور جب کھڑا ہوا تو بینائی پا چکا تھا۔
شبیب بن سعید نے روح بن القاسم سے متن اور سند میں اضافے کے ساتھ اس کی متابعت کی ہے، اور اس میں شبیب کا قول ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔
شبیب بن سعید نے روح بن القاسم سے متن اور سند میں اضافے کے ساتھ اس کی متابعت کی ہے، اور اس میں شبیب کا قول ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔
أخبرَناهُ أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدَّبّاس بمكة من أصل كتابه، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا أحمد بن شَبيب بن سَعيد الحَبَطي، حدثني أبي، عن رَوح بن القاسم، عن أبي جعفر المَديني - وهو الخَطْمي - عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، عن عمِّه عُثمان بن حُنيف، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ وجاءه رجلٌ ضَريرٌ، فشكا إليه ذهابَ بصَرِه، فقال: يا رسول الله، ليس لي قائدٌ وقد شَقَّ عليَّ، فقال رسولُ الله ﷺ: "ائتِ المِيضأةَ فتوضَّأْ، ثم صلِّ ركعتَين، ثم قل: اللهمَّ إني أسألُك وأتوجّه إليك بنبيِّك محمدٍ ﷺ نبيِّ الرَّحمة يا محمدُ، إني أتوجّه بك إلى ربّك، فيُجَلّي لي عن بَصَري، اللهمَّ شَفِّعْه فيَّ، وشَفِّعني في نفسي". قال عثمانُ: فواللهِ ما تفرّقنا ولا طالَ بنا الحديثُ، حتى دخل الرجلُ وكأنه لم يكن به ضُرٌّ قَطُّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وإنما قدّمتُ حديثَ عَوْن بن عُمارة، لأنَّ مِن رَسْمنا أن تُقدِّم العاليَ من الأسانيد.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وإنما قدّمتُ حديثَ عَوْن بن عُمارة، لأنَّ مِن رَسْمنا أن تُقدِّم العاليَ من الأسانيد.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (یہ فرماتے ہوئے) سنا جب آپ ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی بینائی چلے جانے کی شکایت کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا کوئی رہبر (پکڑ کر چلانے والا) نہیں ہے اور مجھ پر بہت مشقت ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کی جگہ جاؤ اور وضو کرو، پھر دو رکعت نماز پڑھو، پھر کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّه إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّه بِكَ إِلَى رَبِّكَ، فَيُجَلِّي لِي عَنْ بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْه فِيَّ، وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ﷺ جو کہ نبیِ رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد (ﷺ)! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ وہ میری بینائی لوٹا دے، اے اللہ! ان کی سفارش میرے حق میں قبول فرما اور میری دعا میری اپنی ذات کے حق میں قبول فرما“۔“ عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم ابھی جدا نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ہماری گفتگو طویل ہوئی تھی کہ وہ شخص (کمرے میں) داخل ہوا تو وہ ایسا تھا جیسے اسے کبھی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے عون بن عمارہ کی حدیث کو اس لیے مقدم کیا کیونکہ ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ بلند سند (عالی) کو پہلے لاتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے عون بن عمارہ کی حدیث کو اس لیے مقدم کیا کیونکہ ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ بلند سند (عالی) کو پہلے لاتے ہیں۔