المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
دُعَاءُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی دعا۔
حدثنا إبراهيم بن عِصمة، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، قال: سُئل عبدُ الله عن الدعاءِ الذي دعَوتَ به حين قال النبيُّ ﷺ: "سَل تُعْطَهْ"، قال: قلتُ: اللهمَّ إني أسألُك إيمانًا لا يَرتدُّ، ونَعيمًا لا يَنفَدْ، ومُرافقةَ نبيِّك محمدٍ ﷺ في أعلى دَرَجِ الجنةِ جنةِ الخُلْد (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس دعا کے بارے میں پوچھا گیا جو انہوں نے اس وقت مانگی تھی جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا“، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أَعْلَى دَرَجِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہو، ایسی نعمت کا جو کبھی ختم نہ ہو، اور جنت الخلد کے بلند ترین درجات میں تیرے نبی محمد ﷺ کی رفاقت کا طالب ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ یہ سند منقطع ہے (بیٹے کا باپ سے سماع نہیں)، مگر دیگر مستند طرق سے اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ رقم (1942) میں گزرا۔
وأخرجه النسائي (10639) عن محمد بن العلاء أبي كريب، عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے ابومعاویہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔