کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: وہ دعا جو نبی ﷺ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو سکھائی۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري وإسماعيل بن قُتيبة السُّلَمي، قالا: حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا ابن فُضَيل، عن العلاء بن المُسيَّب، عن أبي داود الأَوْدي، عن بُريدة الأسلمي، قال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "قل: اللهمَّ إني ضَعيفٌ فقوِّ في رِضاك ضَعْفي، وخُذ إلى الخير بناصِيَتي، واجعلِ الإسلامَ مُنتهى رِضائي، اللهمَّ إني ضعيفٌ فقَوِّني، وإني ذليلٌ فأعِزَّني، وإني فقيرٌ فارزُقني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! میں کمزور ہوں، پس اپنی رضا کے حصول میں میری کمزوری کو قوت میں بدل دے، اور میری پیشانی پکڑ کر مجھے خیر کی طرف لے جا، اور اسلام کو میری رضا و خوشی کی انتہا بنا دے، اے اللہ! میں کمزور ہوں مجھے طاقت دے، میں ذلیل و خوار ہوں مجھے عزت عطا فرما، اور میں فقیر ہوں مجھے رزق عطا فرما“۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفَضْل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح [حدثنا معاوية بن صالح] (1) عن أبي يحيى الكَلَاعي، عن أبي سَلّام الأسود، عن ثَوْبان مولى رسول الله ﷺ، قال: قال رسول الله ﷺ: "قيل لي: يا محمدُ، قُلْ تُسمَعْ، وسَلْ تُعطَ"، قال: "فقلتُ: اللهمَّ إني أسألُك فِعلَ الخَيراتِ، وتَرْكَ المُنكَراتِ، وحُبَّ المساكين، وأن تغفرَ لي وترحمَني، وإذا أردتَ بقومٍ فتنةً فتَوفَّني إليك وأنا غيرُ مَفتُون، اللهمَّ إني أسألُك حُبَّك، وحبَّ مَن يُحبُّك، وحبًّا يُبلّغُني حُبَّك" (2)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا: اے محمد! کہیے، آپ کی سنی جائے گی، اور مانگیے، آپ کو عطا کیا جائے گا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس میں نے عرض کیا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو مجھے معاف فرما دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو کسی فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں پڑے بغیر اپنی طرف اٹھا لے، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت، اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرے اور ایسی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے“۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔