أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدمُ بن أبي إياس، حدثنا شعبةُ. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد الجَلّاب وأبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن جَبْر بن حَبيب، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، عن عائشة: أنَّ أبا بكر الصديق دَخَل على رسول الله ﷺ، فكلَّمَه في شيءٍ يُخفِيه من عائشة، وعائشةُ تُصلِّي، فقال النبيُّ ﷺ: "يا عائشةُ، عليكِ بالكَوامِلِ" - أو كلمةً أخرى - فلما انصرفَتْ عائشةُ سألتْه عن ذلك، فقال لها: "قُولي: اللهمَّ إني أسألُك من الخيرِ كلِّه، عاجِلِه وآجلِه، ما علمتُ منه وما لم أعلَمْ، وأعوذُ بكَ من الشرِّ كُلِّه، عاجلِه وآجلِه، ما علمتُ منه وما لم أعلَمْ، وأسألُك الجنةَ وما قَرَّب إليها مِن قولٍ أو عملٍ، وأعوذُ بك من النار وما قَرَّب إليها مِن قولٍ أو عمل، وأسألُك خيرَ ما سألك عبدُك ورسولُك محمدٌ، وأعوذُ بك من شرِّ ما استعاذك منه عبدُك ورسولُك محمدٌ ﷺ، وأسألُك ما قَضَيتَ لي مِن أمرٍ أن تجعلَ عاقبتَه رَشَدًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے کسی ایسے معاملے میں گفتگو کی جسے وہ سیدہ عائشہ سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے جبکہ سیدہ عائشہ نماز پڑھ رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم جامع کلمات (دعا کے جامع انداز) اختیار کیا کرو“ - یا اسی طرح کا کوئی لفظ فرمایا - جب سیدہ عائشہ نماز سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا سأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، خواہ وہ جلد ملنے والی ہو یا دیر سے، جسے میں جانتا ہوں اور جسے میں نہیں جانتا، اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، خواہ وہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے، جسے میں جانتا ہوں اور جسے میں نہیں جانتا، اور میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتا ہوں، اور میں آگ اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے اس بہترین چیز کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تیرے بندے اور رسول محمد ﷺ نے کیا، اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور رسول محمد ﷺ نے پناہ مانگی، اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے جو بھی فیصلہ فرمائے اس کا انجام بخیر اور ہدایت پر مبنی کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وقد حدَّثَناهُ أبو محمد (2) بنُ الخُراساني، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عُمر، أخبرنا أبو نَعَامَة العَدَوي عمرو بن عيسى، حدثنا جَبْر بن حبيب، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، عن النبي ﷺ، نحوه (1). هكذا قاله أبو نَعامة، وشعبةُ أحفظُ منه، وإذا خالفَه فالقولُ قولُ شعبةَ.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی نبی کریم ﷺ کے واسطے سے اسی طرح کی روایت مروی ہے، ابو نعامہ نے بھی اسے اسی طرح بیان کیا ہے لیکن امام شعبہ ان سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں، اور جہاں اختلاف ہو وہاں شعبہ کا قول ہی معتبر ہوگا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا هارون بن مَعروف، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا حُيَيّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله ﷺ: أنه كان يَدعُو يقولُ: "اللهمَّ اغفِرْ لنا ذُنُوبَنا وظُلْمَنا وهَزْلَنا، وجِدَّنا وعَمْدَنا، وكلُّ ذلك عِندنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَهَزْلَنَا، وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا» ”اے اللہ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری زیادتیوں کو، ہماری مذاق میں کہی گئی باتوں کو، ہماری سنجیدگی کو اور ہمارے جان بوجھ کر کیے گئے کاموں کو معاف فرما، اور یہ تمام (کمزوریاں) ہم میں موجود ہیں۔“
یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد العزيز بن محمد بن إسحاق الوَرّاق، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سُنَيد بن داود، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا زُهير بن محمد، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة، أنها قالت: أتى النبيَّ ﷺ جبريلُ ﵇، فقال: "إِنَّ الله يأمُرُك أن تَدعُوَ بهؤلاءِ الكلماتِ، فإنه مُعطيكَ إحداهُنّ: اللهمَّ إني أسألُك تَعجيلَ عافيَتِك، وصَبرًا على بَليّتِك، أو خُروجًا من الدنيا إلى رَحمتِك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو ان کلمات کے ذریعے دعا کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ ان میں سے کوئی ایک ضرور عطا فرمائے گا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَعْجِيلَ عَافِيَتِكَ، وَصَبْرًا عَلَى بَلِيَّتِكَ، أَوْ خُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَى رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری عافیت جلد طلب کرتا ہوں، اور تیری طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر کا سوال کرتا ہوں، یا اس دنیا سے رخصت ہو کر تیری رحمت کے پاس پہنچ جانے کی التجا کرتا ہوں۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله بن سليمان، حدثنا العلاء بن عمرو الحَنَفي، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحارِبي، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هُريرة، قال: كان مِن دُعاءِ رسولِ الله ﷺ: "اللهمَّ أمتِعْني بسَمْعي وبَصَري، واجعلهُما الوارثَ مني، وانصُرني على مَن ظَلَمَني، وأرِني فيه ثَأْري" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی: «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي» ”اے اللہ! مجھے میری سماعت اور بصارت سے تادمِ مرگ فائدہ پہنچا اور ان دونوں کو میرا وارث بنا دے (یعنی موت تک سلامت رکھ)، اور اس شخص کے خلاف میری مدد فرما جس نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے اس سے میرا بدلہ (انصاف) دکھا دے۔“
یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔