کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کھانا کھانے اور کپڑا پہننے کے بعد کی دعا۔
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصّمد بن الفَضْل البَلْخي، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو مَرحُوم عبد الرحيم (1) بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن أكل طعامًا فقال: الحمدُ لله الذي أطعَمَني هذا، ورَزَقَنيه من غير حَوْلٍ منِّي ولا قوّة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذَنْبِه، ومَن لَبِسَ ثوبًا فقال: الحمدُ لله الذي كَسَاني هذا من غير حولٍ منِّي ولا قوة، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبه" (2).
هذا حديث صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا اور پھر یہ کہا: «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کسی اپنی کوشش اور قوت کے بغیر مجھے یہ رزق عطا فرمایا“ تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جس نے لباس پہنا اور یہ کہا: «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور میری کسی اپنی کوشش اور قوت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا“ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1891
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّن
تخریج حدیث «إسناده ليِّن، أبو مرحوم وشيخه سهل يعتبر بهما في المتابعات والشواهد، وقد انفردا بهذا الحديث، ومع ذلك فقد حسنه الترمذي في "جامعه"، وابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 120، وفي "الخصال المكفرة" ص 74.» [ترقيم الرساله 1891] [ترقيم الشركة 1876]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا صالح بن محمد الرَّازي، حدثنا أبي، حدثنا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، حدثنا محمد بن أبي حُمَيد، عن محمد بن المُنكدر، عن جابرٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما أنعَمَ الله على عبدٍ من نعمةٍ فقال: الحمدُ لله، إلَّا وقد أَدَّى شُكْرَها، فإن قالها الثانيةَ، جَدَّدَ اللهُ له ثوابَها، فإن قالها الثالثةَ، غَفَرَ اللهُ له ذُنوبَه" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر جب بھی کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ اس کے جواب میں «الْحَمْدُ للهِ» کہتا ہے تو یقیناً اس نے اس نعمت کا شکر ادا کر دیا، اگر وہ دوسری مرتبہ یہی کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ثواب میں اضافہ فرما دیتا ہے، اور اگر وہ تیسری مرتبہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے ابومعاویہ کی روایت نقل نہیں کی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عبد الرحمن بن قيس أبو معاوية متروك، بل متهم، وشيخه محمد بن أبي حميد - وهو الأنصاري الزرقي - ضعيف، والراوي عنه يعني عن أبي معاوية - وهو محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن، والد صالح بن محمد الرازي - لم نقع له على ترجمة وقد ...» [ترقيم الرساله 1892] [ترقيم الشركة 1877]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَاميّ، حدثنا عكرمة بن عمَّارٍ، قال: سمعتُ شدّادًا أبا عمار يحدِّثُ، عن شدَّادِ بن أوْسٍ - وكان بدريًّا - قال: بينما هُم في سَفَرٍ إذ نَزَلَ القومُ يَتصبَّحون، فقال شدّاد: أَدْنُوا هذه السُّفرة نَعبَثْ بها، ثم قال: أَستغفرُ الله، ما تكلمتُ بكلمةٍ منذ أسلمتُ إلَّا وأنا أَزُمُّها وأَخطِمُها قبلَ كلمتي هذه، ليس كذلك قال محمدٌ ﷺ، ولكن قال: "يا شدَّادُ، إذا رأيتَ الناسَ يَكنِزونَ الذَّهبَ والفضةَ فاكنِزْ هؤلاءِ الكلمات: اللهمَّ إِنِّي أسألُك التَّثبُّتَ في الأمور، وعزيمةَ الرُّشْد، وأسألكَ شُكرَ نعمتِك، وحُسنَ عبادَتِك، وأسألكَ قلبًا سليمًا، ولسانًا صادقًا، وخُلُقًا مستقيمًا، وأستغفرُكَ لما تعلم، وأسألك من خيرِ ما تعلمُ، وأعوذُ بكَ من شرِّ ما تعلمُ، إنَّك أنتَ علَّامُ الغُيوب" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ (جو کہ ایک بدری صحابی ہیں) سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں تھے کہ لوگ ناشتہ کرنے کے لیے ایک مقام پر اترے، شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دسترخوان قریب لاؤ تاکہ ہم اس سے شغل (کھانا تناول) کریں، پھر فوراً ہی (اپنے ان الفاظ پر ندامت محسوس کرتے ہوئے) کہا: میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، جب سے میں اسلام لایا ہوں میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس کی میں نے لگام نہ تھامی ہو یا اسے پوری طرح سوچ سمجھ کر نہ بولا ہو سوائے اپنی اس بات کے، (یاد رکھو) محمد ﷺ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونے اور چاندی کے خزانے جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کو بطور خزانہ جمع کر لیا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التَّثَبُّتَ فِي الْأُمُورِ، وَعَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَخُلُقًا مُسْتَقِيمًا، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تمام معاملات میں ثابت قدمی اور نیکی پر استقامت کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے اور تیری بہترین عبادت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے قلبِ سلیم، سچی زبان اور درست اخلاق کا سوال کرتا ہوں، اور میں ان تمام گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں، اور میں تجھ سے ان تمام بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان تمام برائیوں سے جو تیرے علم میں ہیں، بے شک تو ہی تمام پوشیدہ باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1893
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد، محمد بن سنان القزاز وإن كان فيه ضعف فهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا روي من غير وجه عن شداد بن أوس، وهي وإن كانت لا يخلو كلٌّ منها من مقال، إلّا أنه بمجموعها يتقوى الحديث. شداد أبو عمار: هو شداد بن عبد الله القرشي.» [ترقيم الرساله 1893] [ترقيم الشركة 1878]