المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
الدُّعَاءُ بَعْدَ أَكْلِ الطَّعَامِ وَلُبْسِ الثَّوْبِ باب: کھانا کھانے اور کپڑا پہننے کے بعد کی دعا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَاميّ، حدثنا عكرمة بن عمَّارٍ، قال: سمعتُ شدّادًا أبا عمار يحدِّثُ، عن شدَّادِ بن أوْسٍ - وكان بدريًّا - قال: بينما هُم في سَفَرٍ إذ نَزَلَ القومُ يَتصبَّحون، فقال شدّاد: أَدْنُوا هذه السُّفرة نَعبَثْ بها، ثم قال: أَستغفرُ الله، ما تكلمتُ بكلمةٍ منذ أسلمتُ إلَّا وأنا أَزُمُّها وأَخطِمُها قبلَ كلمتي هذه، ليس كذلك قال محمدٌ ﷺ، ولكن قال: "يا شدَّادُ، إذا رأيتَ الناسَ يَكنِزونَ الذَّهبَ والفضةَ فاكنِزْ هؤلاءِ الكلمات: اللهمَّ إِنِّي أسألُك التَّثبُّتَ في الأمور، وعزيمةَ الرُّشْد، وأسألكَ شُكرَ نعمتِك، وحُسنَ عبادَتِك، وأسألكَ قلبًا سليمًا، ولسانًا صادقًا، وخُلُقًا مستقيمًا، وأستغفرُكَ لما تعلم، وأسألك من خيرِ ما تعلمُ، وأعوذُ بكَ من شرِّ ما تعلمُ، إنَّك أنتَ علَّامُ الغُيوب" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ (جو کہ ایک بدری صحابی ہیں) سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں تھے کہ لوگ ناشتہ کرنے کے لیے ایک مقام پر اترے، شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دسترخوان قریب لاؤ تاکہ ہم اس سے شغل (کھانا تناول) کریں، پھر فوراً ہی (اپنے ان الفاظ پر ندامت محسوس کرتے ہوئے) کہا: میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، جب سے میں اسلام لایا ہوں میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس کی میں نے لگام نہ تھامی ہو یا اسے پوری طرح سوچ سمجھ کر نہ بولا ہو سوائے اپنی اس بات کے، (یاد رکھو) محمد ﷺ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونے اور چاندی کے خزانے جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کو بطور خزانہ جمع کر لیا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التَّثَبُّتَ فِي الْأُمُورِ، وَعَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَخُلُقًا مُسْتَقِيمًا، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تمام معاملات میں ثابت قدمی اور نیکی پر استقامت کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے اور تیری بہترین عبادت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے قلبِ سلیم، سچی زبان اور درست اخلاق کا سوال کرتا ہوں، اور میں ان تمام گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں، اور میں تجھ سے ان تمام بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان تمام برائیوں سے جو تیرے علم میں ہیں، بے شک تو ہی تمام پوشیدہ باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: متابعات و شواہد کی بنیاد پر یہ سند "حسن" ہے۔ محمد بن سنان القزاز اگرچہ ضعیف ہے مگر شواہد میں اس کی حدیث حسن ہو جاتی ہے۔ شداد ابوعمار: یہ شداد بن عبداللہ القرشی ہیں۔
وأخرجه دون القصة التي في أوله البيهقي في "الدعوات" (243) عن محمد بن عبد الله الضبي، عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الدعوات" (243) میں ابتدائی قصے کے بغیر اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17114) من طريق حسان بن عطية، عن شداد بن أوس. وهذا إسناد منقطع، فحسان لم يسمع من شداد، لكن أخرجه ابن حبان (935) من وجه آخر عن حسان بن عطية عن مسلم بن مِشكم عن شداد بن أوس، فذكر الواسطة بينهما، لكن مسلم بن مشكم هذا ضعيف.
سندی اختلاف: امام احمد (17114) نے اسے حسان بن عطیہ کے طریق سے روایت کیا جو کہ "منقطع" ہے کیونکہ حسان کا شداد سے سماع نہیں ہے۔ ابن حبان (935) نے درمیان میں "مسلم بن مشکم" کا واسطہ ذکر کیا ہے مگر وہ ضعیف ہے۔
ورواه مطولًا ومختصرًا سعيد بن إياس الجريري - وكان قد اختلط - فاضطرب فيه، فرواه مرةً عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشخير عن رجل من بني حنظلة عن شداد بن أوس، كما أخرجه أحمد (17133)، والترمذي (3407)، ورواه مرةً عن أبي العلاء بن الشخير عن شداد، لم يذكر فيه الحنظلي، وهذا إسناد ضعيف أيضًا لاختلاط الجريري ولإبهام الرجل الحنظلي.
علّت / فنی نکتہ: سعید بن ایاس الجریری نے اسے روایت کیا مگر وہ اختلاط (یادداشت کی خرابی) کا شکار تھے اور مضطرب رہے۔ کبھی انہوں نے "رجل من بنی حنظلہ" کا مبہم واسطہ دیا اور کبھی نہیں۔ اس لیے یہ سند ضعیف ہے۔
وللحديث طرق أخرى غير هذه مذكورة في تعليقنا على "المسند" يتقوى الحديث بمجموعها، والله أعلم.
متابعات و شواہد: اس حدیث کے دیگر طرق ہم نے "المسند" کی تعلیق میں ذکر کیے ہیں جن کے مجموعے سے یہ حدیث قوی ہو جاتی ہے۔