حدیث نمبر: 1892
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا صالح بن محمد الرَّازي، حدثنا أبي، حدثنا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، حدثنا محمد بن أبي حُمَيد، عن محمد بن المُنكدر، عن جابرٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ما أنعَمَ الله على عبدٍ من نعمةٍ فقال: الحمدُ لله، إلَّا وقد أَدَّى شُكْرَها، فإن قالها الثانيةَ، جَدَّدَ اللهُ له ثوابَها، فإن قالها الثالثةَ، غَفَرَ اللهُ له ذُنوبَه" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، إلَّا أنهما لم يخرِّجا أبا معاوية.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر جب بھی کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ اس کے جواب میں «الْحَمْدُ للهِ» کہتا ہے تو یقیناً اس نے اس نعمت کا شکر ادا کر دیا، اگر وہ دوسری مرتبہ یہی کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ثواب میں اضافہ فرما دیتا ہے، اور اگر وہ تیسری مرتبہ کہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے ابومعاویہ کی روایت نقل نہیں کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عبد الرحمن بن قيس أبو معاوية متروك، بل متهم، وشيخه محمد بن أبي حميد - وهو الأنصاري الزرقي - ضعيف، والراوي عنه يعني عن أبي معاوية - وهو محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن، والد صالح بن محمد الرازي - لم نقع له على ترجمة وقد ...» [ترقيم الرساله 1892] [ترقيم الشركة 1877]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، عبد الرحمن بن قيس أبو معاوية متروك، بل متهم، وشيخه محمد بن أبي حميد - وهو الأنصاري الزرقي - ضعيف، والراوي عنه يعني عن أبي معاوية - وهو محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن، والد صالح بن محمد الرازي - لم نقع له على ترجمة وقد تعقب الذهبي في "تلخيصه" المصنِّفَ في تصحيحه لهذا الحديث بقوله: ليس بصحيح، قال أبو زرعة: عبد الرحمن بن قيس كذاب.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ عبدالرحمن بن قیس "متروک" بلکہ "متہم" (جھوٹ کا الزام) ہے، اور اس کا شیخ محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔
اہم نکتہ: امام ذہبی نے مصنف کے اس حدیث کو صحیح کہنے پر تعاقب کیا اور کہا: یہ صحیح نہیں، ابوزرعہ کے بقول عبدالرحمن بن قیس کذاب (جھوٹا) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (4090) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (4090) میں حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (2369) من طريق أحمد بن منصور الحنظلي، عن عبد الرحمن بن قيس، به.
حوالہ / مصدر: اسے دیلمی نے "مسند الفردوس" میں احمد بن منصور الحنظلی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1892 سے ماخوذ ہے۔