أخبرنا الحسن بن محمد الحَلِيمي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني يحيى بن حسان، يحدِّث عن ربيعة بن عامرٍ قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "أَلِظُّوا بِيا ذا الجَلالِ والإكرام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم «أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے جلال اور اکرام والے (کے الفاظ) کو اپنے اوپر لازم کر لو اور ان کے ذریعے اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگا کرو“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه، حدثنا خَلَف بن سليمان النَّسَفي، حدثنا محمد بن المُتوكِّل العَسْقَلاني، حدثنا رِشْدِين بن سعد، حدثنا موسى بن حَبِيب، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: "أَلِظُّوا بِيا ذا الجَلالِ والإكرام" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم «أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے جلال اور اکرام والے (کے کلمات) کو کثرت سے پڑھا کرو اور (دعا میں) ان پر اصرار کیا کرو“۔“
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن موسى بن عُقبة، عن محمد بن المُنكَدِر، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لهم: "أَتحبُّون أيها الناس أن تَجتَهِدوا في الدعاء؟ " قالوا: نعم يا رسول الله، قال: "قولوا: اللهمَّ أَعِنَّا على ذِكرِكَ وشُكرِكَ وحُسْنِ عبادتِك" (2).
هذا حديث صحيح، فإنَّ خارجة لم يُنقَم عليه إلَّا روايته عن المجهولين، وإذا روى عن الثقات الأثبات فروايتُه مقبولة (1).
هذا حديث صحيح، فإنَّ خارجة لم يُنقَم عليه إلَّا روايته عن المجهولين، وإذا روى عن الثقات الأثبات فروايتُه مقبولة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے (صحابہ سے) دریافت فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم دعا مانگنے میں پوری محنت اور کوشش کرو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ کہا کرو: «اللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر ہماری مدد فرما۔“ “
یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ خارجہ نامی راوی پر صرف مجهولین سے روایت کرنے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، لیکن جب وہ ثقہ اور پختہ راویوں سے روایت کریں تو ان کی روایت مقبول ہوتی ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ خارجہ نامی راوی پر صرف مجهولین سے روایت کرنے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، لیکن جب وہ ثقہ اور پختہ راویوں سے روایت کریں تو ان کی روایت مقبول ہوتی ہے۔