المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
اسْتِفْتَاحُ الدُّعَاءِ بسُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَلِيِّ الْأَعْلَى الْوَهَّابِ باب: دعا کی ابتدا سبحان ربی العلی الأعلى الوہاب سے کرنا۔
حدیث نمبر: 1856
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري وأبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عبد العزيز بن عِمران بن أيوب بن مِقْلاص، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا عمر بن راشد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الصمد، حدثنا عمر بن راشد، حدثنا إياس بن سَلَمةَ بن الأكوع، عن سَلَمةَ بن الأكوع، قال: ما سمعتُ النبيَّ ﷺ يستفتحُ دعاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَه بـ "سُبحان رَبِّيَ الأعلى العَليِّ الوهّاب" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو جب بھی کسی دعا کا آغاز کرتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے اسے ان کلمات سے شروع فرمایا: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ» ”پاک ہے میرا رب جو بہت بلند، نہایت عالی مرتبہ اور بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف عمر بن راشد.
درجۂ حدیث: عمر بن راشد کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16548) عن عبد الصمد - وهو ابن عبد الوارث - عن عمر بن راشد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27/16548) نے عبدالصمد (ابن عبدالوارث) عن عمر بن راشد کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: عمر بن راشد کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16548) عن عبد الصمد - وهو ابن عبد الوارث - عن عمر بن راشد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27/16548) نے عبدالصمد (ابن عبدالوارث) عن عمر بن راشد کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1856 سے ماخوذ ہے۔