کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کا اتنا زیادہ ذکر کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ دیوانہ ہے۔
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن كَثير، وأصْبَغُ بن الفَرَج. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى. وحدثنا محمد بن صالح، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو الطاهر؛ قالوا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، قال: وأخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ درَّاجًا أبا السَّمْح حدَّثه عن أبي الهيثم، عن أبي سعيدٍ الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أكْثِرُوا ذِكرَ الله حتى يقولوا: مجنونٌ" (1). هذه صحيفةٌ للمِصريين صحيحة الإسناد، وأبو الهيثم سليمان بن عُبيد العُتْواري من ثِقات أهل مِصر.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کیا کرو کہ (تمہیں دیکھ کر لوگ) یہ کہنے لگیں کہ یہ تو مجنون (دیوانہ) ہو گیا ہے۔“
یہ مصریوں کا ایک ایسا صحیفہ ہے جس کی سند صحیح ہے، اور اس کے راوی ابو الہیثم سلیمان بن عبید العتواری مصر کے ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔
یہ مصریوں کا ایک ایسا صحیفہ ہے جس کی سند صحیح ہے، اور اس کے راوی ابو الہیثم سلیمان بن عبید العتواری مصر کے ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن علي الأبّار، حدثنا هشام بن خالد الأزرق، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن منصور بن عبد الرحمن، عن أُمِّه، عن عائشةَ أُمِّ المؤمنين قالت: كان النبيُّ ﷺ إذا أتاه الأمرُ يَسُرُّه قال: "الحمدُ لله الذي بنِعمتِه تَتِمُّ الصالحاتُ"، وإذا أتاه الأمرُ يَكرَهُه قال: "الحمدُ لله على كلِّ حالٍ" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جس سے آپ خوش ہوتے تو فرماتے: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے فضل و کرم سے تمام نیک کام پائے تکمیل تک پہنچتے ہیں“، اور جب کوئی ایسی بات آتی جسے آپ ناپسند فرماتے تو کہتے: ”ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا موسى بن سالم (1)، عن عون بن عبد الله بن عُتْبة، عن أبيه، عن النعمان بن بَشِيرٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "الذين يَذكُرون مِن جَلالِ الله التحميدَ والتَّسبيحَ والتكبيرَ والتهليلَ، يَتعاطَفْنَ حولَ العرش، لهنَّ دَوِيٌّ كدَوِيِّ النحل، يَقُلنَ (2) لصاحبِهنَّ، [أفلا] يحبُّ [أحدُكم] (3) أن يكون له عندَ الرَّحمن شيءٌ يُذكِّره به" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عظمت و جلال کا تذکرہ کرنے والے جو تحمید، تسبيح، تکبیر اور تہلیل بیان کرتے ہیں وہ عرش کے گرد چکر لگاتے ہیں، ان کی بھنبھناہٹ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کا تذکرہ کرتے ہیں؛ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ رحمن کے پاس اس کا کوئی ایسا تذکرہ کرنے والا ہو جو اس کی یاد دلاتا رہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔