کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ حیا والا اور کریم ہے، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب التاجر بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سليمانُ التَّيمي، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سَلْمانَ قال: إِنَّ الله يَسْتَحْيي أَن يَبسُطَ العبدُ إليه يديه [يسألُه] (2) فيهما خيرًا فيردَّهما خائبتَين (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين. وقد وَصَلَه جعفر بن ميمون عن أبي عثمان النَّهْدي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے (سوال کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ان میں کسی بھلائی کی التجا کرے اور اللہ ان دونوں ہاتھوں کو خالی اور نامراد واپس لوٹا دے۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور اسے جعفر بن میمون نے ابو عثمان النہدی کے واسطے سے متصل (موصول) بیان کیا ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور اسے جعفر بن میمون نے ابو عثمان النہدی کے واسطے سے متصل (موصول) بیان کیا ہے۔
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جعفر بن ميمون، عن أبي عثمان، عن سلمان، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ الله حَيِيٌّ كريمٌ، يَستَحْيي من عبدِه أن يَبسُطَ إليه يديه ثم يَرُدَّهما خائبتَين" (2). وله شاهدٌ بإسناد صحيح من حديث أنس بن مالك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہایت حیا فرمانے والا اور کرم والا ہے، وہ اپنے بندے سے اس بات پر حیا فرماتا ہے کہ وہ اس کے حضور اپنے ہاتھ پھیلائے اور پھر وہ انہیں خالی (اور نامراد) لوٹا دے۔“
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثنا بِشْر بن الوليد القاضي، حدثنا عامر بن يِسَاف، عن حفص بن عمر بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري، قال: حدثني أنس بن مالكٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله رحِيمٌ حَيِيٌّ كريمٌ، يَستَحْيي من عبدِه أن يَرفَع إليه يديه ثم لا يَضَعُ فيهما خيرًا" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہایت رحم کرنے والا، حیا والا اور کرم والا ہے، وہ اپنے بندے سے حیا فرماتا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کرے اور پھر وہ ان ہاتھوں میں کوئی بھلائی نہ ڈالے۔“